تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 441
بین الاقوامی جھگڑوں کے متعلق لیگ آف نیشنز کا اصول مقرر فرمایا ہے۔فرماتا ہے۔دان طابقين مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ اِحْدُ هُمَا عَلَى الأَخرَى فَقَاتِلُوا الَّتي تَبْغِي حَتَّى تَفِى وَ إِلَى أَميرِ اللهِ فَإِن نَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إن اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات ) - (1) جب دو قومیں لڑیں تو دوسری اقوام مل کر لان میں صلح کرلیں۔ہیں، اگر کوئی فریق صلح پر راضی نہ ہوتو دوسری سب اقوام اس کی مد کریں جو صلح پر آمادہ ہے اور جنگ کرنے والی قوم سے لڑیں۔(۳) جب جنگ کرنے والی قوم جنگ بند کر دے تو یہ بھی جنگ بند کر دیں۔(۲۳) اسکی بعد پھر اصل جھگڑے کے متعلق باہمی تصفیہ کیا جائے۔(۵) بوجہ اسکی کہ ایک قوم نے پہلے صلح پیر رضامندی ظاہر نہ کی تھی اُسے سختی نہ کی بجائے۔بلکہ تنازع کا فیصلہ انصاف سے کیا جائے۔راس وقت مسلمانوں میں مفتی ہیں لیکن معنی اور قاضی نہیں ہیں اور ادھر حکم ہے گو نوار با نیستین آہستگی سے دین کو جاری کرد۔یعنی اسلامی قانون کو جاری کرنے میں نہایت غور اور فیسکر اور سہولت کی ضرورت ہے۔مگر بہت سے احکام فور ابیاری کئے جا سکتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ جاری کئے جائیں مجلس قانون ساز کے متعلق وقت یہ ہے کہ اسلام ہر شخص کا عالم دین ہونا ضروری قرار دیتا ہے۔لیکن اس زمانہ میں عیسائیوںکی طرح علماء اور عوام کا الگ الگ فرقہ بن گیا ہے۔اس مشکل کو کون فورا عمل کر سکتا ہے کہ معنی اقتصادی ماہر اور سیاسی ماہر دین نہیں جانتے۔دین جاننے والے مقنن اقتصادی ماہر اور سیاسی ماہر نہیں ہیں۔موہر سے دعوی کرنا اور بات ہے۔مگر حقیقت ہی ہے۔مانا کہ ہمارہ سے آقا جو نیل بھی تھے۔اقتصادی ماہر بھی۔سیاسی ماہر بھی۔مقنن بھی تھے۔مفتی بھی تھے اور قاضی بھی تھے۔يَدَاكَ نَفْسِى يَا رَسُولَ اللهِ - اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى ال محمد وبَارِكَ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ، فصل ششم حضرت سیدنا مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے اور دسمبر سا لانہ کو خواب میں دیکھا کہ : یں کسی اور جگہ ہوئی اور قادیان کی طرف آنا چا ہتا ہوں ایک دو آدمی ساتھ ہیں کسی نے کہا اسلام کا آئین اساسی ناشر مولانا عبدارحمن صاحب اور وکیل امریوان تحریک جدید بود حال بلڈ نگ نام بوده در فراری شام اند :