تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 440
م سوال یہ ہے کہ باغی کافی تھا مرتد کو کیوں شامل کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرتد کا ذکر اسی ضروری تھا کہ وہ جنگی سپاہیوں کے حق کا مطالبہ نہ کرے جو باد جو قتل کے قاتل نہیں بن جاتے اور قتل نہیں کئے بھاتے۔مرتد کے قتل کے خلاف یہ بھی دلیل ہے کہ پھران کو بھی حق پہنچتا ہے۔لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدْرًا بِغَة علیم میں اس حق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔نیست ۴ - علامی - اسلام میں نہیں۔جنگی قیدیوں کا ذکر ہے۔اور ان کے بارہ میں حکم ہے۔اما منا بعد وإما ندَاء حَتَّى تَفعَ الحزب افزارها محمد رغ) اور جس کو خدا و حاصل نہ ہوا اس کیلئے "کتابت" کا حکم ہے۔پس غلامی کی کوئی صورت بھی موجود نہیں۔جنگی قیدیوں کا ذکر ہے جو ہر زمانہ میں پکڑے جاتے ہیں۔اور ہر حکومت پکڑتی ہے اس کے علاوہ بھی اسلام نے قیدیوں کی آزادی کے مختلف حکم دئے ہیں۔قصاص قتل۔اس میں معافی کی اجازت ہے۔خواہ خط کی دیت ہو خواہ عمر کی سزا ہو۔مگر حکومت شرارت میں دخل دے گی۔قصاص اعضاء - مار پیٹ کا یا السن بالستین وغیرہ۔ہاں جلانے کی اجازت نہیں۔نہ تک کر نیکی۔اس قسم کی سزا کا ہونا اس کے لئے ضروری ہے مگر اس میں بھی عضو یا دیت جائز ہے اور عمر کی شرط ہے۔ہاں قاضی دباؤ اور ڈر کی صورت میں معافی کو بر طرف کر سکتا ہے۔علوم کی تعذیب۔بلکہ مجرم کی بھی جائز نہیں۔اسے روکنے کیلئے اقرار جرم کے بعد انکار جرم کو جائزہ رکھا گیا ہے۔جبیری جرم۔جزم نہیں بلکہ جرم کر انے والا جرم ہے۔حکومت عوام کی ہے۔انتخاب ضروری ہے۔ریفرنڈم بھی اسلام سے ثابت ہے اور مشورہ بواسطہ نمائندگان بھی۔إِنَّ اللهَ يَا مُرُكُمْ أَن تُوةُ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَن عَدُمُوا بِالْعَدْلِ (نساء ) وَاَمْرُهُمْ شُوَرى بَيْنَهُمْ ( شوری با مشاورهم في الأمير دل مرا با اور پھر مزدوروں کے متعلق احکام اسلامی برور کی مزدوری غیر ادا ہو۔اس پر سختی نہ کی جائے۔اسکی وہ کام نہ لیا جائے جو انسان خود نہ کی ہے۔اس کی مزدوری کا تھوڑا حکومت کے ذیلیہ چپکایا جا سکتا ہے۔