تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 442
راستند بند ہے۔ایک بحر ذخار چل رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ واقع میں کوئی دریا نہیں بلکہ ایک بڑا سمندر ہے اور پیچیدہ ہو ہو کر چل رہا ہے جیسے سانپ چلا کرتا ہے۔ہم واپس پچھلے آئے کہ ابھی راستہ نہیں اور یہ راہ بڑا خوفناک ہے یہ ہے یه و داوری اور سنی خیز و یا اگر سید نا حضرت مصلح موعود کی ہجرت پاکستان سے بھی پوری ہو چکی تھی اور ہورہی ہے مگر اس کی عملی تعبیر کا ایک نہایت درجہ تلخ اور روح فرسا پہلو پہلی بار ماہ فتح و مبر نہ ہش کے آخری ہفتہ میں یہ سامنے آیا کہ امن پسندی اور حکومت وقت کی اطاعت و وفاداری میں مشہور جماعت۔جماعت احمدیہ۔اپنے مقدس مرکز سے باہر نا محمد میں سالانہ جلسہ کرنے پر مجبور ہوئی اور حضرت مصلح موعود جو اس مقدس تقریر کے حقیقی معنوں میں درج رواں تھے اس وجہ سے قادیان کے سالانہ جلسہ میں رونق افروز نہ ہو سکے کہ قادریا کے رستہ میں ملکی اور سیاسی مشکلات اور پیچیدگیوں کا ایک خوفناک سمند ر حائل ہو چکا تھا۔قبل انہیں اس تقریب پر شمع احمدیت کے ہزاروں پر انے بر صغیر کے بھاروں افرانت سے پہنچ جاتے تھے اور اس کی برکات سے فائدہ اُٹھاتے تھے مگر نہ ہش کے سالانہ جلسہ قادیان میں پاکستان بلکہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے بھی کوئی احمدی شامل طلبہ نہ ہو سکا جو سلسلہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا الم انگیز ساتھ تھا۔عہد درویشی کا پہلا سالانہ جلسہ کہتے ہیں تاریخ اپنے اوراق الٹتی ہی نہیں۔دوہراتی بھی ہے۔یہ اصول یا مسلمیر سالانہ جلسہ قادیان کے بارہ میں سو فیصدی صحیح نکلا چنا نچہ جس طرح حضرت مسیح موعود کے زمانہ مبارک میں جلسہ سالانہ کے سوا جو ڈھاب کے کنار سے ہوا ) سب سالانہ جلسے مسجد اقصی میں منعقد ہوئے۔اسی طرح عہد درویشی کا یہ پہلا سالانہ جلسہ بھی (۲۶ ۲۷ ۲۸ کمبر امن کو مسجد اقصیٰ ہی میں منعقد ہوا جس میں ۳۱۵ نفوس کو جن میں ۲۵۳ در دیش اور ۶۲ غیرمسلم رہندو سکھ تھے شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی۔علاوہ ازیں تین احمدی اور چار غیر احمدی خوانین اور ایک نھنی بچی نے بھی ایک پردہ کے پیچھے (جو بر آمدہ مجید کے شمالی حصر میں سیڑھیوں کے ساتھ نصب کیا گیا تھا ، جلسہ کی کار ردائی منی رجلسہ کا سیٹھ مسجد کے شمالی حصہ میں بنچوں پیہ بنایا گیا تھا میں کا رخ جنوب کی طرف تھا اور اس پر حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب بجٹ اور صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب تشریف فرما تھے۔لے البدر ۲ جنوری نگاه میک، تذکره طبع سوم مستم شگاه سراس مو قع پر سردار سر این سنگر صاحب ا ہے۔ایس۔آئی اپنی سوچ چکی پولیس قادیان (سج ایک کنسٹیل کے ) اور سیکیورٹی آفیر بھی مجود تھے نیز قریب ہی ایک اونچے مکان پر ملٹری کی ایک پیکٹ بھی لگی ہوئی تھی۔