تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 439
۳۳۵ مرتکب ہو گا۔اور رخش ہی کی یہ سزا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ زنا کی کیا مزا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کی سزا خدا تعالے کے ہاتھ میں ہے۔چنانچہ زانی کے متعلق فرماتا ہے حلق آنا ما دفرقان پتے، یعنی وہ اپنے گناہ کی سزا بعد اسے پائے گا۔ہاں زنا کو روکنے کے لئے شریعت اسلامیہ نے اس کی مبادی کو رد کا ہے۔مثلاً غیر محرم مردو عورت کے اختلاط کو روکا ہے۔۲ - چوری کی قطع ید - السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا انيد بهما مانده را به من بات بتائی جاتی ہے۔جواب۔یہ سزا ہر پوری کی نہیں۔بلکہ اس کے لئے شرطیں ہیں۔اول۔چوری اہم ہو۔دوم - بلا ضرورت ہو یعنی مادہ۔طعام کی چوری پر رسول کریم صلی الہ علیہ سلم نے مزان دی۔اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کے متعلق ہے کہ ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جس کی یہ وجہ ہے کہ وہ کما نہیں سکتا اور بھوک سے مجبور ہے۔سوم - تو یہ سے پہلے گرفتار ہو تب مرزا علی گی۔چہارم۔ماں پوری کر چکا ہو۔صرف کوشش سرقہ نہ ہو۔پنجم۔اس کی چوری مشتبہ نہ ہو۔یعنی اشتراک مال کا ملٹی نہ ہو جن کے گھر سے پوری کرے وہ اس کے عزیز یا تعلق نہ ہوں جن پر اس کا میزد - (بیت المال کی چوری پر حضرت عرض نے سزا نہ دی شکل کسی مذہبی جنون کے ماتحت ہو۔جیسے بہت پُر الینام یہ مذہبی دیوانگی کہلائے گی اور حکومت تعزیری کارروائی کرے گی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائیگی یا جوش انتقام میں چوری کرے جیسے جانوروں کی پوری کرتے ہیں۔یا جبرا پوری کرائی جائے ششم۔وہ شخص نا بالغ نہ ہو - هفتم عقلمند ہو بیوقوف یا فاتر العقل نہ ہو۔ہشتم۔اس پر اصطلاح پور کا اطلاق ہو سکتا ہو۔چھور سے مال واپس دلوایا جائے گا۔۔ڈاکہ۔بغاوت اور ارتداد باغیانہ کی سزا قتل ہے۔اِنَّمَا جَزَارُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللههَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وارْجُلُهُمْ مِنْ خِلَاتٍ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ (مائدہ ہے ، اس میں چار الگ سزائیں بتائی ہیں۔یہ سزائیں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ہیں۔اگر ایسے لوگ ساتھ قتل کرتے ہوں تو قتل کئے جائیں گے۔صلیب دیتے ہوں تو صلیب دئے جائیں گے۔ہاتھ پاؤں کاٹتے ہوں تو ان سے یہی کیا جائے گا۔محضن دنگا فساد کرتے ہوں تو ید یا جلا وطنی کی سزادی جائے گی۔اس پر کیا اعتراض ہے ؟ اگر سلمان یہی معاملہ غیر اسلامی حکومت میں کہر سے اور اس سے یہی سلوک ہو تو مسلمانوں کو کیا اعتراض ؟