تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 415
رم پاکستان کو جزائہ سنگلادیب اور مالاریب کا مطالبہ کرنا چاہیئے۔مرزا بشیر الدین محمود کا بیان۔۲ دسمبر - مرزدائی قادیانی جماعت کے امیر مرزا بشیر الدین محمود نے ایک بیان میں حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کراچی سے چٹا گانگ جانیوالے بھی رستے پر واقع ہیں اور ان کی آبادی نو سے فیصدی مسلمان ہے۔دا۔پ ہے۔اے اخبار سر - اختیار سفینہ نے لکھا :- کشمیر کا مسلہ پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمام طبقوں میں تنظم اور ضابطہ کی ایک معصو ا روح پھونک دی جائے۔دجناب مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی تفریہ )۔لاہور اور دسمبر کشمیر کامسئلہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے کشمیر کا انڈین یونین کے قبضے میں ہونا پاکستان کا ہر طرف سے محصور ہوتا ہے اور اسے ایک اجیر کی حیثیت تک پہنچانا ہے جسے ہر وقت تباہ کیا جا سکتا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود امیر جماعت احمدیہ نے لاء کالج پال میں ایک میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔یہ میٹنگ دائرہ معارف اسلامیہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی تھی مسٹر جسٹس منیر اس کے صدر تھے۔آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے باشندوں کو شیر کی جنگ آزادی جیتنے کے لئے پوری پوری کوشش کرنی چاہیئے۔اس میں پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کے استحکام اور دفاع کا راز ہے کشمیر میں مجاہدین شکل ترین حالات کے با وجو د جنگ لڑرہے ہیں۔انہیں گرم کپڑوں کی اشد ضرورت ہے۔اسی کام کو آسان بنانے کے لئے گرم کپڑے انہیں بہت جلد پہنچ جانے چاہئیں۔پاکستان کے سرحدی دفاع کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ سرحدات کے قریب رہنے والے لوگوں کو فورم مسلح کہ دینا چاہیئے۔اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ آبادی کے تمام طبقوں میں تنظیم اور ضابطہ کی ایک روح پھونک دیجائے۔آپ نے پر زور تائید کیک ملک کی زراعت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے۔اس کے لئے پاکستان میں بہت زیادہ امکانات ہیں۔شاہ پور، بھنگ ، مظفر گڑھ کے اضلاع اور شمال مغربی صوبہ سرحد کے چند اضلاع اور سندھ کا تمام صوبہ موجودہ ترقی یافتہ طریقوں پر بہت جلد پاکستان کی زراحتی دولت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔پاکستان معدنیات کے طور پر بھی لاعمال تھا۔یہاں کوئلہ ، سیسہ، پٹرول وغیرہ امام تھا لیکن یہ تمام ذرائع ادھور سے پڑے ہیں ان کی مکی جانچ پڑتال وقت کی اس سے بڑی ضرورت ہے۔مثالاً بلوچستان میں پٹرول عام تھا لیکن اس کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔زمینداره اعدام در کمبر شانه من :