تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 403
۴۰۳ سکول شادیوال ضلع گجرات - احمدیہ پرائمری سکول کھاریاں ضلع گجرات - سه ان کی مرکزی رنگا ہوا پور فسادات کے دوران قادریان در شرقی پنجاب اردشیر کے جملہ مداری بند ہوگئے تھے۔اور احمدی نونہاوں کی تمیمی تر بیت کو سخت دھک لگنے کا اندیشہ تھا اسے حضرت امیر المومنین الصلح الوعد نے حکم دیا کہ تعطیلات کے بعد قادیان کی مرکزی درسگاہوں کو جاری کرنیکا فوری انتظام کیا جائے چنانچہ عصر کی توجہ اور حضور کے خدام کی انتھک اور شبانہ روز کاوشوں سے ماہ نبوت / نومبر ش کے دوران ہی احیاء عمل آگیا۔جو پیش آمدہ حالات میں یقیناً ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا جس کی کوئی مثال مسلمانان مشرقی پنجاب کے کسی دوسرے مہا جو ادارے سے میں نہیں مل سکتی۔تعلیم الاسلام کالی یم السلام کا دوبارہ قیام کی بے سرو سامانی کے عالم میں ہوں اور کس طرح اس نے حضرت صدا بزدہ تیم کا مرزا ناصر احد صاحب دایره الله کی نگرانی میں جلد جلد ارتقائی منازل طے کئے؟ اسکی تفصیل تاریخ احمدیت جلد دہم دعت تا ص میں آچکی ہے جس کے اعادہ کی یہاں ضرورت نہیں۔صیت صدر انجین احمدیہ پاکستان کی پہلی سان نور پور میں جام واحد یہ اور درس و مدریت جامعہ احمدید و مدرسہ احمدیہ کے الحاق اور ان میر و قیام کی روداد حسب ذیل الفاظ میں درج ہے :۔موسمی تعطیلات ہر تک جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ قادیان میں بخیر و خوبی جاری رہے۔مگر تعطیلات کے دوران میں جو طلباء اپنے گھروں میں گئے وہ فسادات کی وجہ سے واپس نہ آسکے۔اسلئے تعطیلات کے اختتام پر قادیان میں بوجہ مہنگا ھی حالات ہونے کے یہ مدارس جاری نہ کئے جاسکے۔مورخه در نومبر ان کو جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ لاہور آئے۔اور سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت ۱۳ نومبر سے دونوں ادار سے لاہور میں جاری کر دیئے گئے۔مگر جگہ کی تنگی کی وجہ سے نیز ہوسٹل کی سہولتیں ہونے کی وجہ سے ان دونوں اداروں کو چینوٹ منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔پھر دو ماہ کے بعد پر نسپل مصاب مولانا ابو العطاء صاحب کی درخواست پر دونوں ادارہ سے امر کر میں منتقل کئے گئے جہاں یہ اب تک قائم ہیں۔رد زیر رپورٹ میں در سه اموری کی جماعت اول ، دوم و سوم در جامعہ احمدیہ کے درجہ اولی اور ثانیہ اور ثالثہ کا نتیجہ ہ فی صدی رہا۔پنجاب یونیورسٹی کے مولوی فاضل کے امتحان میں بیمار سے صرف چار طلبہ شامل ہوئے اور چاروں پاس ہوئے۔نتیجہ سوفیصدی رہا۔اس امتحان میں مولوی عطاء الرمین صاحب طاہر یو نیورسٹی میں دودم رہے اور مولوی عبداللطیف صلوب تک ہی سوم ہے۔رپورٹ صدر انجمن حمدیہ پاکستان س ش ص ۲ تا ۱ ۱۳