تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 397
نامہ کے ساتھ ان کی سند داری کی تعلیم ہے۔احمدیہ جماعت کے افراد کا یہ عقیدہ ہے کہ جملہ مذاہب سے یکساں سلوک کیا جائے۔اسی اصول کی بناء پر وہ قادیان کے ہندو، سکھ یتیموں کی مدد کرتے رہے ہیں۔اور اب بھی جبکہ جماعت کی مالی حالت بہت کمزور ہو چکی ہے ان تیمیوں کی ایک تعداد اپنے وظائف حسب معمولی احمدیہ جماعت سے حاصل کر رہی ہے کہ لہ ڈاکٹر شنکر اس مہرہ بی ایس سی ، ایم بی بی۔ایس نے اختیار سٹیٹسمین دار فروری منہ میں لکھا:۔قادیان کے مقدس شہر میں ایک ہندوستانی پرغیر پیدا ہوا۔جس نے اپنے گردو پیش کو نیکی اور بلند اخلاق سے بھر دیا۔یہ اچھی صفات اسکی لاکھوں مانے داروں کی زندگی میں بھی مشکل ہیں۔حد یہ جماعت کا نفقط نظر تیری اور اس کا رویہ پابند قانون ہے۔یہی ایک واحد جماعت ہے۔جو عدالتی ریکارڈ کی رو سے جرم سے پاک ثابت ہوتی ہے۔گذشتہ فرقہ وارانہ فسادات وفسادات ، میں بھی احدیوں نے اپنے ہا تھ قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ سے ) صاف کھے۔یہ سب کچھ ان کے روحانی پیشوا کی حمد تعلیم کے بغیر وقوع میں نہیں آسکتا۔قادیان کے موجودہ خلیفہ (حضرت ) مرزا بشیر الدین محمود ) احمد (صاحب ) محبت وحلوت کا مجسمہ ہیں۔بہت کم شخصیتوں نے اہل اسلم پر ایسا اثر ڈالا ہے جیسا احمد یسا اثر ڈالا ہے جیسا (حضرت) مرند امام احمد (صاحب علیہ الصلوة والسلام ) نے۔آپ کی عظمت کا اندازہ آپ کی شخصیت ، عقیدہ اور تعلیم کے خلاف پراپیگنڈہ کی شدت سے کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ پرانے عقائد کے مسلمانوں کو اس بات کا ڈر تھا کہ ان کے ہم خیال (احمدیت میں داخل ہو کہ ) کم ہوتے جائیں گے حکومت ہند کو چاہیے کہ امن اور انسانیت کے مفاد کے پیش نظر اس خالص ملکی اور ہندوستانی جماعت کو نظر اندازہ نہ کرے کیونکہ مناسب وقت میں احمدیہ جماعت ہمارے ملک کے تعلقات اسلامی دنیا کو مضبوط کرنے اور ہندوستان کو منظمت اور بڑائی حاصل کہ انے میں ایک اہم پارٹ ادا کر سے گی " کے " اختبار تنظیم پشاور (۲۰) جولائی منہ) نے لکھا :- رسول کے تین سوتیرہ ساتھیوں نے لکھنے والوں کو شکست دی اور بعد میں مکہ بھی فتح کیا۔آج آپ ہی کے نقش قدم ایان داد را اعلام مری و مسکن قادیانی سیل بالا ضلع گورداسپور کے تین سوتیرہ مری در ایران میں وئے ہوئے ہیں اور ان کا یہ حتی فیصلہ ہے کہ دہ رسول کریم کے صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل کر قادیان کی سید مبارک جامعہ احمدیہ اور بہشتی مقبرہ جہاں حضرت مرز اصاحب دفن ہیں کی حفاظت کے لئے تن من دھن سے مصرو میند بار ۲۰ ر د کمبرانه مت : ه : بحوالہ بدر ۳۰ دسمبر لانه من :