تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 398
٣٩ یاد خدا وہ امداد خدا ہیں۔ان میں بہت سے عالم حافظ اور صوفی ہیں کا ۵ - اخبار دی سینٹینل (THE SENTINEL) رانی نے در جولائی کشش نہ کی اشاعت میں لکھا :- قادیان کے نورد برکت کی حد بندی کرنے کی ضرورت نہیں۔تمام دنیا اس کو براہ راست یا بالواسطہ جاتی ہے کچھ عرصہ پیشتر یہ مقام زاد یہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔لیکن اکٹھ سال پہلے ایک روحانی کیفیت اس تہذیب کے طاظ سے بیشتر نادیہ پسماندہ جگہ میں ظاہر ہوئی۔اس کا ظہور (حضرت مرزا غلام احمد (صاحب علیہ الصلواۃ والسلام کے وجود میں ہوا۔کاؤنٹ ٹالسٹائے در دسی مفکر بھی ان لوگوں میں سے تھے جو آپ کے افکار عالیہ سے سیراب ہوئے۔انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ وشخص قادیان سے کلام کر رہا ہے وہ کوئی معمولی خانی انسان نہیں۔فی الحقیقت دنیا کے تمام مفکرین نے جن کو آپ کی کتب تقسیم کے مطالعہ کا موقعہ ملا۔آپ میں معجزہ کا ظہور اور حقیقی راحت و اطمینان پایا۔اپنے دنیا پہ ظاہر کیا کہ وہ خلیج جو خالق اور مخلوق کے درمیان وسیع ہو گئی ہے۔اس کو پاٹنا آپ کی زندگی اور بعثت کا مقصد ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام گوشوں سے لوگ آپ کے گرد و پیش مجمع ہو گئے اور آپ کی ذات میں انہوں نے مسیح موعود کی بعثت کو پورا ہوتے دیکھا۔آجکل آپ کے ماننے والے تمام ملکوں میں اور تمام حکومتوں کے ماتحت ترتی کر رہے ہیں۔تقسیم ملک کے وقت قادیان میں ایک بہت بڑی تعداد علماء، سائنس دانوں اور مقدس بزرگوں کی تھی۔اس پس منظر کے ساتھ ہیں چاہیئے کہ ہم موجودہ قادیان کا نظارہ کریں۔تاکہ ہمیں اس میں رہنے والے حمدیوں کے مبرد استقلال - ایمان اور انجام کا علم ہو سکے ہندوستان کے احمدیوں کی پورے طور پر جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ان کی حکومت کے ساتھ وفاداری کسی طرح مستقبہ نہیں اور نہ ہی کوئی کدورت با غیر مخلصانہ رنگ ان میں پایا جاتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے دل میں کچھ ہو اور زبان پر کچھ ہو۔حکومت ہند کے وہ وفا دار ہیں۔دل کی گہرائیوں سے اپنی انگلیوں کے پوروں تک بلکہ بیچ تو یہ ہے کہ وہ تمام دنیا میں جس جس حکومت کے ماتحت رہتے ہیں اس کے وفا دالہ ہیں اور جملہ پیشوایان مذاہب کا احترام وعزت کو نان کے بنیادی مذہبی اصولوں میں داخل ہے " اے 4 - مشہور بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کلکتہ مورخہ ۲۵ دسمبر اندر نے لکھا : " قادیان جو احمدی فرقہ کے مسلمانوں کا مقدس مذہبی مرکز ہے آئندہ کرسمس کے ہفتہ میں مذہبی تقاریر سے گونجنے گا۔اس موقع پر تقریباً آٹھ سو زائرین جن میں ایک صد کے قریب پاکستانی ہوں گے اور بقیہ ہندوستان کے بجواله بدر ۲۰ رد کبرانه