تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 396
۳۹۵ مستورات کو نکالنے کے لئے نہیں آسکتی۔گذشتہ اکتوبر سے اس وقت تک ہمارے قریب کے دیہات سے پولیس نے صرف چار پانچ عورتیں بر آمد کی ہیں۔لیکن چونکہ خدا کے فضل سے اس وقت بھی قادیان میں چار جگہ سے اذان بلند ہوتی ہے۔اس لئے جب متد مسلمان عورتوں کو اذان سنگ معلوم ہوا کہ ہم ہیں ہیں تودہ موقع پا کہ ہمارے پاس پہنچے گیئں۔بعض کو عیسائی ہمارے پاس پہنچا گئے۔بعض کو تو بعض شریف مزاج سکھ پہنچا گئے۔بعض چونکہ دیہات پر حملہ ہونے کے وقت قادیان اگر ٹھہری تھیں اسلئے انہیں علم تھا کہ یہ ھی مسلمانوں کا مرکز ہے یا انہوں نے غیر مسلموں سے قادیان کا ذکر سنا تھا تو چھپ چھپ کر موقع پا کر بھاگ آئیں۔خوف کی وجہ سے مذہب تبدیل عمل تقریبا اسی کی تعداد میں ہمارے پاس آئے اور ہم نے ان کی رہائش اور خوراک کا انتظام کیا۔ایسر جب ہمار سے ٹرک قادیان آتے تھے تو ہم انہیں بحفاظت پاکستان پہنچا دیتے تھے اور اب سپیشل پولیس کے ذریعے انہیں پاکستان بھجوادیا جاتا ہے ، اور ان کے اقارب کو خطوط ، تا رادر خون کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے۔گردونواح کے قادیان کے علاوہ ان عورتوں میں کئی ہوشیار پور، امرتسر، فرد نور سیالکوٹ کے اضلاع اور ریاست جموں کی تھیں "۔کیا اس خود کے بعد مشرقی پنجاب کے سجادہ نشین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کہ کہ سکتے ہیں۔کوان کے دل میں بھی اسلام ہے۔ہے اس مسلمان سے کو بانہ ہے کا فرا اچھا جس مسلمان کے پیش نظر انجام نہ ہو۔۲:۔مسٹر ایچ آر دوہرا نے مشہور اخبار سیمیں دنئی دہلی ) مورخہ ۱۷ ۱۸ار نومبر منہ میں لکھا :- قادیان دحضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی بجائے پیدائش ہے۔جنہوں نے بشانہ میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔آپ نے اس بات کا اظہار کیا کہ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی صفات اور خو بو لے کر آئے ہیں۔قادیان لاکھوں مسلمانوں کا جو احمد یہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔مقدس مقام ہے۔اس کی چپہ چپہ زمین احمدیوں کو محبوب ہے۔یہ قصبہ احمدیہ جماعت کا مرکز رہا ہے۔اور اس میں مسیح موعود علیہ السلام) کے خلفاء کی رہائش رہی ہے۔قادیان میں مقیم ۳۱۳ مومنین باد جود سرکاری افسران کی ابتدائی مخالفت اور غیر سلم پناہ گزینوں کی عادت کے قادیان میں قائم رہے۔اس کی وجہ اپنی جماعت کے اصولوںمیں ان کا غیر متزلزل ایمان حکومت وقت کے ساتھ وفاداری اور تمام حواله الفضل ۱۲۸ ہجرت کرمتی اش مث :