تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 342 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 342

فصل سوم قادیان کو احمدیوں سے خالی کرانے کے لئے بول ) بھارتی حکومت اگرچہ بار بارید تو نا کر رہی تھی کردہ اقلیتوں کو اپنے وطن میں آباد رکھنا چاہتی۔اور فوجی افسروں کی الزام تراشیاں اور دھمکیاں ہے اگر میں اس کے بالکل برعکس تھا۔خصوشا میرا عمل قادیان کی نسبت تو اس کے خفیہ عزائم عملاً تقسیم ہند کے ساتھ ہی بے نقاب ہونے شروع ہو گئے تھے اور جماعت احمدیہ پر الزام تراشیوں کی ابتدا بھی ماہ ظہور پر اگست ہر مہیش کے آخری ہفتہ سے ہوگئی تھی مگر حکومت کے خطرناک ارادوں کا احمدیوں کے سامنے لفظ اظہا پہلی بار مر تبوک ستمبر کو ہوا جبکہ قادیان کی پولیس چوکی کے انچا رج ہزارہ سنگھ صاحب اور دوسرے سکھ سپاہیوں نے بٹالہ میں بعض ذمہ دار احمدیوں سے پوچھا کہ آپ کا قادیان خالی کرنے کے متعلق کیا ارادہ ہے ؟ کیا اسے تعالی نہیں کرنا ؟ اگلے روند دور تبوک استمبر کی صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب اور مکرم مرزا عبد الحق مناسب کی بیٹالہ میں برگیری پنو بھائی صاحب سے ملاقات ہوئی۔کرم مرزا عبدالحق صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور (سرکنی ایں اور سپر نٹنڈنٹ پولیس (سردار تو نہ ر سنگھ صاحب کی موجودگی میں جماعت احمدیہ کی تعلیم دحالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم ہمیشہ پر اسن اور قانون کے پابند رہے ہیں اور آج سے پندرہ دن تک ہما ر سے خلاف کوئی شکایت نہ بھتی مگر اب سی کا ایک ہمیں بد نام کرنے کے لئے بے بنیاد الزامات لگائے جار ہے ہیں۔برگیڈیئر صاحب نے جوابا کہا۔میں سمجھتا ہوں بعض رپورٹیں غلط بھی ہوں گی مگر چند دن ہوئے استناعی حکم کے باوجود آپ لوگوں کی جیپ باہر گئی اور اس میں بعض اشخاص فوجی وردی پہنے ہوئے تھے ربات یہ تھی کہ خود مری نے جماعت سے جیپ مانگ کر لی اور ملٹری کے سپاہیوں نے ہی اسے استعمال کیا تھا) برگیڈیئر صاحب نے دوسرا الزام یہ عاید کیا کہ ایک بیرونی گاری سے منارہ مسیح کی طرف بذریعہ وائر لیس پیغام آیا کہ ہمارا گولہ بارود دختم ہے اور بھجوائیں یہ بات بھی سراسر غلط تھی۔ہاں یہ مجھے تھا کہ ایک ملحقہ گوئی خطہ کی حالت