تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 343
میں تھا اور اس کی اطلاع دینے کے لئے ٹارچ کے ساتھ اشارہ کیا گیا کہ مظلوم مسلمانوں کے بچاؤ کی کوئی صورت کریں چنانچہ اسی وقت مقامی ملٹری کو اس سے باخبر کر دیا گیا )۔بر یگیڈیئر صاحب نے تیسرا الزام یہ دیا کہ آپ کا ہوائی جہانہ علاقہ بھر میں دہشت پھیلا تا رہا ہے۔(اس الزام میں بھی ذرہ برابر صداقت نہ تھی کیونکہ ہوائی جہاز مصرف بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔البتہ ہوائی جہاز نے ایک بارہ احمدیوں کے تباہ شدہ درگاؤں دنجوال اور فیض اللہ ٹھیک کا معائنہ کیا تھا۔مگر یہ پروانہ بھی سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس گورداسپور کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے تھی کہ وہ یہ گاؤں اپنی آنکھ سے دیکھنا چاہتے تھے۔مرزا عبد الحق صاحب نے اپنی معلومات کے مطابق ان الزامات کی تردید کی مگر یہ گلیڈیٹر صاحب نے کہا کہ بچہ ہوا سو ہوا آئندہ نوجی وردیوں سے ملتی جلتی در دیوں اور قادیان سے باہر بھیلوں کا استعمال نہ کیا جائے اور نہ جماعت کا ہوائی جہانہ اس علاقہ میں پرداز کر ہے۔اور نہایت سخت لہجہ میں کہا کہ ہم دیکھیں گے دہ کیسے اڑتا ہے۔مطلب یہ تھا کہ ہم اسے شوٹ کر دیں گئے۔اگرچہ بریگیڈیئر صاحب نے اس موقعہ پر سماعت احمدیہ کے مرکزی نما ئندوں کو خاص طور پر بلوایا تھا۔مگر ان کو اپنی معروضات کی تفصیل پیش کرنے کا کوئی موقع نہ دیا۔بلکہ مرزا صاحب موصوف کو یہ کہکہ روک دیا کہ تفصیلات کی ضرورت نہیں اور ساتھ ہی یہ مطالبہ یار با ارا اور پور سے زور سے کیا کہ آپ یقین دلائیں کہ آمده احمدی جوان جارحانہ رنگ کی کوئی حرکت نہیں کہیں گے۔حالانکہ احمدی منظوم اور محاصرہ کی حالت میں تھے۔اور صبح وشام فوج اور پولیس کی کھلی بھار جیت کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔رمان نبوی رستمیر کو یہ رپورٹ موصول ہوئی کہ قادیان کی پولیس چوکی کے انچارج صاحب سارادن ہی کہتے ر ہے کہ احمدیوں سے یہ سخت غلطی ہوتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کی حمایت کی اب ہماری گورنمنٹ کو کیسے اعتاب ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے وفادار ہوں گے۔یہ غلطی کوئی معمولی غلطی نہیں اور خطر ناک نتائج کا باعث بنے گی۔ار ماہ تبوک ستمبر کو قادیان میں نی ملٹری آئی میں کے ایک صوبیدار نے آتے ہی ایک ہندو معاند سے کہا کہ ہم دیکھیں گے قادیان دالے قادیان خالی نہیں کریں گے۔صرف ہم پڑنے کی دیر ہے کہ یہ سب بھاگ جائیں گئے۔اسی روز بر یگیڈیر پنجو صاحب ، گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپر نٹنڈنٹ پولیس صاحب کے ہمراہ ار بجے قادیان تشریف لائے اور امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے آپ کے مکان پر ملاقات کی۔