تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 316
۳۱۵ کی اجازت نہیں لیکن ان مہذب ممالک میں انسفسوں پر ایسی قیود نہیں لگائی گئیں جیسی کہ اس ملک میں حکومت کو فوراً ہی لائسنس پر سے قیود ہٹانی چاہیئے تھیں اور اس قسم کا قانون پاس کرنا چاہیے تھا کہ سوائے بدمعاشوں اور فسادیوں کے ہر شریف شہری ہتھیار رکھ سکے اور اسے ہتھیار چلانا آتا ہو۔اسی طرح سالہا سال سے کانگریس بھی اور مسلم لیگ بھی اس بات پر لڑتی چلی آئی تھی کہ جالسہ اور تقریہ اور تحریر کی عام آزادی ملنی چاہئیے۔اس بات کے متعلق بھی کسی نئے غور کی ضرورت نہیں تھی۔یہ تو ایک انسانی حتی ہے جس کا مطالبہ دُنیا کی ہر قوم کرتی چلی آئی ہے۔حکومت کو چاہیے تھا کہ فوراً ان امور کے متعلق احکام نافذ کر دیتی اور ملک کے اندر یہ حساس پیدا کر دیتی کہ اب وہ آزاد ہیں ، پہلے کی طرح غلام نہیں ہیں۔اسی طرح ایگزیکٹو اور جوڈیشل کو بعدا کرنے کا مسلہ ہے۔سالہا سال سے اس پر بخشیں ہوتی چلی آئی ہیں۔کانگریس نے بھی اس کی تائید کی ہے مسلم لیگ نے بھی اس کی تائید کی ہے اسلامی قانون کے مطابق بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایگزیکٹو کا محکمہ الگ ہونا چاہیئے اور قضا کا محکمہ الگ ہونا چاہیے۔جب تک ان دونوں محکموں کو آزاد نہ کیا جائے افراد میں آزادی کی روح پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قضا کے ذریعہ سے اپنا حق لے سکتا ہے اور ہر افسر کو محسوس ہونا چاہیئے کہ اگر وہ کسی کا حق مارے گا تو اسے اس کی جوا بد سہی بھی کرنی پڑے گی۔ان امور اور ایسے ہی کئی امور کے متعلق حکومت فوری کاروائی کر سکتی تھی۔لیکن ہوا یہ کہ وہی پرانے قانون اور دہی پرانے طریق باقی رہے۔اور ابھی تک ملک کے باشندوں نے پوری طرح یہ بھی محسوس نہیں کیا کہ ان کا ملک آزاد ہو چکا ہے۔پس ہمارے نزدیک دونوں فریق کی غلطی تھی۔اس نقص کی اصلاح کا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ مسلم لیگ کے عہدے ایسے لوگوں کو دیئے بھاتے جو وزارت کے نمبر نہ ہوتے۔۶ار تاریخ کو یہ نیک قدم اُٹھایا گیا ہے۔ہمیں اس سے تعلق نہیں کہ کون صدر ہوا ہے کون نہیں ہم یہ بھانتے ہیں کہ ملک کے فائدہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملک کی سیاسی انجمن پر ملک