تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 317 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 317

٣١٦ کے وزراء قابض نہ ہوں۔لیکن جس طرح یہ ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کی آئین ساز مجلس ، ملک کی وزارت اور اس کے افسروں کے معاملات میں دخل اندازی شنہ کمر ہے۔ان تین آزاد یا نیم آزاد اداروں کے باہمی تعاونوں سے ہی ملک کی حالت درست ہوا کرتی ہے۔بسیاسی انجمن کو حکومت کے افسروں کے اثر سے آزاد ہونا چاہئیے۔مجلس آئین ساز کو سیاسی ادارے کے حکم سے آزاد ہونا چاہیے اور حکومت اور حکام کو سیاسی نجمین کی دخل اندازی سے آزاد ہونا چاہیے۔بیشک اگر سیاسی انجمن یہ سمجھتی ہے کہ مجلس آئین ساز اس کی پالیسی کو ٹھیک طرح نہیں پھلائے گی تو آئندہ انتخاب کے موقع پر وہ اس کے ممبروں کی جگہ دوسرے ممبر کھڑے کر دے۔آئین ساز اسمبلی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ سمجھتی ہے کہ وزراء اس کی مرضی کے مطابق کام نہیں کر رہے تو وہ اُن کے خلافت عدم اعتماد کا ووٹ پاس کر دے۔اگر حکام صحیح طور پر کام نہ کر رہے ہوں تو پلیٹ فارم پر سے اُن کے خلاف آوازہ اُٹھائی جا سکتی ہے۔لیکن خفیہ دباؤ یا ستقل طور پر اُن کے کام میں دخل اندازی کسی صورت میں بھی جائزہ نہیں ہو سکتی۔اگر ایسا کیا جائیگا تو نظام کی گل بالکل ڈھیلی پڑھائے گی اور دنیا کا بہترین قانون بھی پاکستان کو مضبوط بہ بنا سکے گا۔اے پاکستان کا نظام حکمت اسلام ہونا چاہیئے ای اصلی انوار نے رافت اکبر سيدنا المصلح الموعود 1144 ہ میں کو پاکستان میں آئندہ حکومت کیسی ہو“ کے موضوع پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا۔حضور کے ارشادات کا ملخص در ریج ذیل کیا جاتا ہے۔فرمایا : اس وقت پاکستان میں یہ سوال زور سے اُٹھ رہا ہے کہ پاکستان کی آئندہ حکومت کیسی ہونی چاہیئے۔آیا اسلامی ہونی چاہیئے یا عام سیاسی رنگ کی ؟ میرے نز دیک یہ سوال خود ظاہر کہ رہا ہے کہ جو لوگ اس پر بحث کرتے ہیں انہوں نے صحیح رنگ میں اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ورنہ وہ کبھی اس سوال کو بحث کا موضوع نہ بناتے مثلاً یہ پوچھا جاتا ہے وو له " الفصل ۲۰ نبوت / نومبر میش صفحه ۲-۳ *