تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 315 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 315

گھبراہٹ کے موقعہ پر قوم پر ٹھونس دینا اور یہ عمل کرنا کہ ہم قوم کی خیر خواہی کر رہے ہیں کسی وقت میں بھی قوم کے لئے مفید نہیں ہو سکتا۔اگر بعض صورتوں میں قوم کو مادی فائدہ پہنچے گا تو اس کی ذہنیت پست ہو جائے گی اور دہی اچھی غذا اس کے لئے زہر بن جائے گی اور وہ خود سوچنے کی عادت سے محروم رہ جائے گی۔ایک تندرست ہٹے کٹے انسان کے منہ میں لقمہ دینا کسی قدر بد تہذیبی کا فعل سمجھا جاتا ہے۔لقمہ بھی وہی ہوتا ہے ، دانت بھی وہی ہوتے ہیں لیکن دوسرے ہاتھ سے جو شاید لبعض حالات میں اپنے ہاتھ سے بھی زیادہ صاف ہو ، وہ لقمہ کھانا ایک تندرست و توانا آدمی کے لئے کتنا گھناؤنامعلوم ہوتا ہے۔چاول کا دانہ کھی سے زیادہ معدہ میں گڑ بڑ پیدا کر دیتا ہے۔دوسری طرف وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان سے سب مقصد حاصل ہو گئے اب ہمیں فوری طور پر کسی نئے پروگرام کے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں وہ بھی غلطی کرتے ہیں۔اگر بڑی اور اصولی باتوں کے لئے ہمیں نہ صرف خود سوچنے کی ضرورت ہے بلکہ قوم کو خود سوچنے کا موقعہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ اہم مسائل کے متعلق ملک سے رائے عامہ لینے کی ضرورت ہے۔تو بعض باتیں ایسی بھی تو ہیں جن کو ملک سوچ چکا ہے اور جو دیر سے زیر بحث پہلی آتی رہی ہیں کیوں نہ ان کے متعلق فوری طور پر کوئی تدابیر اختیار کی جائیں۔مثلاً یہی لے لو کہ گو پاکستان ایک جمہوری اصول پر قائم شدہ حکومت ہے ، لیکن بہر حال وہ مسلمانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے تو کیوں نہ فوری طور پر ان امور کے متعلق کوئی قانون جاری کر دیا جائے جن میں کوئی دو رائیں ہو ہی نہیں سکتیں مثلا کیوں نہ فوری طور پر یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ ورثہ کے متعلق اسلامی قانون مسلمانوں میں جاری ہو۔اسی طرح طلاق اور ضلع کے متعلق اسلامی قانون بھاری ہو۔اسی طرح شراب کا پینا یا بیچنا مسلمان کیلئے منتج ہو۔یہ قانون پر حال مسلمان کے لئے ہوتے۔اس پر ہند و یا عیسائی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ایک ہندو کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان شراب نہیں پیتا یا اپنی جائیداد کا حصہ اپنی بیٹی کو کیوں دیتا ہے۔یا ایک مرد کو طلاق کا اور عورت کو خلع کا خاص شرائط کے ماتحت حق حاصل ہے۔اسی طرح یہ کوئی اختلافی مسئلہ نہیں تھا کہ ملک کے آزاد ہوتے ہی ملک میں اسلحہ کو قیود سے آزاد کیا جاتا۔لائسنس کے بغیر تو کسی مہذب ملک میں بھی اسلحہ