تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 314 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 314

رفت پاکستان کو سامان نہیں نہیں کیا۔اور میں نسبت پاک کا سامان نکالنا چاہیے تھا اس نسبت سے زیادہ تیزی کے ساتھ پاکستان سے سامان نکالاگیا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ نسبت قائم رکھی گئی ہے۔اگر سپریم کمانڈ ختم ہو گئی تو پاکستان کا سامان بھجوانا کی طور پر ہندوستان یونین کے ہاتھ میں ہو گا۔کیا کوئی سمجھدار انسان کہہ سکتا ہے کہ جنرل آخلک پاکستان کے جین سامان کو ہندوستان یونین سے پاکستان کی طرف نہیں بھیجو اسکتا اس کو سردار بلدیو سنگھ بھیجوا دیں گے یہ اتنی غلط بات ہے جس کو ہر چھوٹی سے چھوٹی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے که پاکستان گورنمنٹ جو پہلے خود سپریم کمانڈ کے توڑنے کی تائید میں تھی اب اس وقت تک اس کمانڈ کے توڑنے کی تائید میں نہیں جب تک کہ پاکستان کا سامان پاکستان کو نہ مل جائے اور یہ فیصلہ پاکستان گورنمنٹ کا بالکل عقل کے مطابق ہے اور ہمارے نز دیک پاکستان گورنمنٹ کو اصرار کرنا چاہیے کہ جب باہمی سمجھوتہ سے ایک تاریخ مقرر ہو چکی ہے تو ہم اس وقت تک میریام کمانڈ کو توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے " سے اسلامی جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق ملک سے سیدنا مصلح الموعود نے ایک اداریہ مں حکومت پاکستان سے یہ پُر زور مطالبہ فرمایا میں بعض فوری آئینی تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کہ اسلامی جمہوریت کے تقاضوں کی روشنی میں ملک کے آئینی ڈھانچہ میں فی الفور بعض بنیادی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں حضور کے اس اہم اداریہ کا ایک ضروری اقتباس نیچے درج کیا جاتا ہے :- ہمارا یہی فرض نہیں کہ ہم قوم کو ایک ایسے راستہ پر چلائیں جو ٹھیک ہو۔بلکہ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم قوم کو ایسی تربیت دیں کہ وہ خود سوچنے اور سمجھنے کی اہل ہو جائے اور پھر ہر نئے مسئلہ کو ایسے رنگ میں اس کے سامنے پیش کریں کہ وہ عمدگی اور خوبی کے ساتھ اس پر غور کر کے ایک نتیجہ پر پہنچے اور جب وہ ہمارے خیالات سے متفق ہو جائے تو ہم اس خیال کو جاری کو دیں۔یہی وہ اسلامی جمہوریت ہے جو دنیا کی دوسری جمہوریتوں سے مختلف ہے۔لیکن یہی وہ جمہوریت ہے جو ساری جمہوریتوں کے عیوب سے پاک ہے۔اچھی سے اچھی چیز کو غفلت " الفصل ۱۵ نبوت / نومبر رمیش صفحه ۲ کالم ۲-۴ *