تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 306
۳۰۵ افسروں کی مدد سے اپنے ملک کو آزاد کرا لیا۔کیا پاکستان کے مسلمان افسر اس کویتے سے بھی کم قابلیت رکھتے ہیں: اس کویتے کی کیا قابلیت تھی ، صرف حب الوطنی۔وطن کی محبت کے بے انتہا جذبہ نے اس گویتے کو ایک قابل جرنیل بنا دیا۔کیا ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے مسلمان افسروں کے دل سے وطن کی محبت کا جذبہ بالکل مفقود ہے ؟ ہم مانتے ہیں کہ پرانی روایات کا اثر اب تک افسروں کے دل پر باتی ہے ابھی ان کی حب الوطنی کی روح نے ان کی آنکھیں نہیں کھولیں۔ابھی اپنی قوم کو سر لینڈ بالا کرنے کے جذبات اُن کے دل میں پوری طرح نہیں اُمڈے۔مگر پھر بھی ایک پاکستانی پاکستانی ہی ہے۔اپنے ملک کی خدمت کے علاوہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی جان بچانے کی خواہش بھی اسے زیادہ محنت سے کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔اگر پاکستان پر کوئی حملہ ہو تو ایک پاکستانی جرنیل کو صرف اپنے ملک کی عزت کا ہی خیال نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ بھی نظر آرہا ہوگا کہ اگر دشمن آگے بڑھا تو اس کے ماں باپ اس کی بیوی اس کے بھائی، اس کی بہنیں، اس کے بچے ، اس کے دوسرے عزیزوں کے بیچتے ، اس کے پڑوسی ، اس کے املاک ، اس کی جائیدادیں ، یہ سب تباہ و برباد ہو جائیں گے۔پس ملکی جذبہ کے علاوہ خاندان اور قرابت کے بچانے کا جدہ یہ بھی اس کے اندر کام کرتا ہو گا۔پس ہمیں اس بات کی تکر میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیے کہ ہمارے ملک کے آدمی ابھی پوری طرح تجربہ کار نہیں۔جدید ڑکی کے بانی کمال اتا ترک صرف ایک کر نیل تھے لیکن وطنی محبت کے جذبہ میں سرشار ہو کہ اس کو نیل نے بڑتہ بڑے جرنیلوں کے چھکے چھڑا دیئے۔فرانس کا مشہور مارشل شہنشاہ نپولین صرت فوج کا ایک لیفٹیننٹ تھا۔لیکن اس لیفٹیننٹ نے دنیا کے مشہور ترین جرنیلوں کی قیادت کی۔صرف اس لئے کہ اس کا ڈل وطن کی محبت کے جذبات سے سرشار تھا۔امریکہ کا پہلا پریذیڈنٹ اور پہلا کمانڈر انچین جارج واشنگٹن محض ایک سویلین تھا۔لیکن وطن کی محبت کے جذبات نے اس کے اندر دہ قابلیت پیدا کر دی کہ بڑے بڑے جرنیلوں کی راہنمائی کر کے اس نے اپنے ملک کو انگریز می غلبہ سے آزاد کروا لیا۔ہنر کا انجام بچا ہے کیا ہی خواب ہوا ہو لیکن اترائیں