تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 305
۳۰۷ کر دیں تو بھی ہم اس امر کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ کوئی فوج محض حملہ کرنے کی تدبیروں سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔جرمن حکومت گذشتہ دنوں لڑائیوں میں محض اس لئے شکست کھا گئی کہ اس نے صرف حملہ کی تیاریاں کی تھیں۔دفاع کی کوئی تیاری اس نے نہیں کی تھی۔دونو دفعہ جب اس کا حملہ ناکام رہا تو وہ دفاع کی قوت سے بھی محروم ہو گیا کیونکہ دفاع کا پہلو اس نے مد نظر نہیں رکھا تھا۔یہ پرانا مقولہ اب تک بھی درست پھیلا آرہا ہے کہ جنگ دوسر دارد۔جنگ میں کبھی انسان آگے بڑھتا ہے کبھی پیچھے ہٹتا ہے۔جب تک پیچھے ہٹنے کے لئے بھی پوری تدبیریں نہ کی گئی ہوں کبھی کوئی فوج کامیاب نہیں ہوتی۔پس صرف مشینی دستوں پر زور دینا پاکستان کے دفاع کو فائدہ نہیں پہنچائے گا۔کسی دشمن کے حملہ کی صورت میں اس کے حملہ کی شدت کو روکنے کے لئے بالمقابل حملہ کرنے میں تو یہ دستے کام آجائیں گے۔لیکن ان کا فائدہ دیر پا اور دور رس نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کے ارد گرد جتنے ممالک ہیں ان میں سڑکوں کا وسیع بھال اس طرح نہیں پھیلا ہوا جس طرح یورپ میں پھیلا ہوا ہے۔پس اس معاملہ میں یورپ کی نقل کرنا خواہ اس کا فیصلہ بڑے بڑے جرنیل ہی کیوں نہ کریں خلاف عقل اور نا مناسب ہے بہمارے نزدیک پاکستان کی فوج کا بڑھانا نہایت ضروری ہے۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستانی فوج کی پاکستانی جرنیل ہی راہنمائی کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت ہمارے پاس تجربہ کار افسر بہت کم ہیں لیکن جہاں نا تجربہ کاری نقصان دہ ہوتی ہے، ہمدردی کی کمی اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔اگر جاں نثار اور تجربہ کار مل جائیں تو فبہا، لیکن اگر ایسے افسر نہ ملیں تو کم تجربہ کار لیکن جاں نثار افسر تجربہ کار لیکن بے تعلق افسر سے یقیناً بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔پولینڈ جب روس اور جرمنی سے آزاد ہوا تو اس کے پاس تجربہ کار افسر نہیں تھے۔کیونکہ نہ تو مین کی فوجوں میں پولش لوگوں کو بڑے عہدے ملتے تھے اور نہ روسی فوجوں میں پولش لوگوں کو بڑے عہدے ملتے تھے۔اس وقت پولش نے اپنی فوجوں کی کمان ایک گوتیے کے سپرد کی اور اس گویے نے تھوڑے بہت فوجی اصول سے واقف پولش