تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 288 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 288

۲۸۶ راجہ علی محمد صاحب کا بیان ہے کہ بعیسا کہ اس وقت مختلف احباب نے اطلاع ہم پہنچائی یا مشورہ دیا۔زمین کے کئی قطعات حضور کے زیر نظر تھے۔ان میں ایک سر زمین ربوہ اور دوسرا کڑانہ کی پہاڑیوں کے دامن میں یہ دونو سرگودھا کی سٹرک پر تھے۔اس ریوہ والے قطعہ کے متعلق ایک موقعہ پر میں نے یہ عرض کیا کہ یہ رقبہ میرا بھی دیکھا ہوا ہے ضلع جھنگ کے گذشتہ ہندو بست میں میں تحصیل چنیوٹ کا تحصیل دار بندوبست تھا اور اس رقبہ سے کئی دفعہ میرا گزر ہوا تھا۔میں نے عرض کیا کہ یہ قطعہ زمین زراعت کے ناقابل بالکل کو تصویر ہے جہاں صرف ایک بوٹی " لانی" کے جو اونٹوں کا پارہ ہے اور جو خود زمین کے ناقابل زراعت ہونے کا ثبوت ہے۔اس کے علاوہ اور کسی قسم کی سبزی، درخت وغیرہ کا وہاں نشان تک نہیں بعض سرمایہ داروں نے لمبی میعاد کے پیڈ پر گورنمنٹ سے یہ زمین لے کر اس کو آباد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے تو ہے حضرت سیدنا المصلح الموعود کا سفر اس مایوس کن رپورٹ کے با وجود خدا تعالیٰ کے مقدس نئے مرکز کی مجوزہ زمین حافظ فرمانے کیلئے کا اہم فیصلہ کر لیا۔چنانچہ حضور پر نور نے خاص اس مقصد کے لئے دار انار / اکتوبر میش کو مندرجہ ذیل خدام کے لئے دار انار اسلام بو العزم تظیفہ موعود نے یہ قطعہ زمین خود ملاحظہ فرمانے نے لے مشہور روایت ہے کہ ایک کروڑ پتی بند و بہادر چند نامی نے اس زمین کو قابل زراعت بنانے کے لئے ہزار ہا روپیہ خوری کو ڈالا نگرا سے ناکامی ہوئی اور وہ اس صدمہ ہی سے چل بسا۔بہا در چند کی کھدوائی ہوئی نہر کے آثار اب بھی موجود نہیں ؟ الفضل در انسان جون مش صفحه ۳ ے اس تاریخ کی تعیین مکرم جناب شیخ محمد احمد صاحب نظر امیر جماعت احمدیہ لائل پور کے مندرجہ ذیل نوٹ سے ہوتی ہے۔آپ لکھتے ہیں :۔کی ہجرت کے بعد نما کسار رتن باغ لاہور میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔جہانتک مجھے یاد یا یہ 1 اکتو ریشم کا واقعہ ہے حضور نے مجھ سے فرمایا :- کل میں وہ جگہ دیکھ کر آیا ہوں جو پہاڑیوں کے درمیان ہے اور اللہ تعالٰی نے مجھے رویاء میں دکھائی تھی اثنائے گفتگو میں حضور نے پسند فرمایا کہ خاکسار لائل پور میں اپنا کام شروع کرے اور فرمایا کہ وہ جنگہ لائل پور سے قریب ہے آپ ہم سے قریب ہوں گے۔یہ تلطفن اور یہ تہر۔آہ ! آه ! و الفضل در جنوری (صلح) له (۱۳۲۸ بیش ))