تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 287 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 287

۲۸۵ جیپ کے حصول کی کوشش کی مگر اس میں کا میابی نہ ہوسکی۔اسی دوران میں ان کی اپنے چازاد بھائی کرنل عطا الہ صاحب باجوہ سے نواب محمد دین صاحب کی کو ٹھٹی پہ ملاقات ہوئی بچودھری عزیز احمد صاحب اور نواب صاحب کی تحریک پر چودھری عطاء اللہ صاحب نے بخوشی اپنی جیپ پیش کر دی۔اور اُن کو لے کر پہلے تو شیخو پورہ اور بڑا نوالہ میں مختلف اراضی کا جائزہ لیا بعد ازاں چنیوٹ کی طرف سے دریائے چناب کو پار کر کے جب اُس سر زمین پر پہنچے جہاں اب ربوہ آباد ہے تو انہوں نے اس خطہ کو مرکز کے لئے سب سے زیادہ موزوں قرار دیا۔کونل عطاء اللہ صاحب باجوہ نے ۲۴ مصلح اجنوری مش کو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اس سفر کی تفصیل میں لکھا کہ 1981 ” میرے چچازاد بھائی چودھری عزیز احمد صاحب مرکز کی تلاش میں گئے ہوئے تھے تو میں اُن کے ساتھ تھا اور وہ قصہ اس طرح سے ہے کہ میں لائل پور سے اوکاڑہ تین دن کی چھٹی جا رہا تھا اور جب میں لاہور سے گذرا تو مجھے بھائی عزیز احمد صاحب نواب صاحب مرحوم کی کوٹھی پر ملے اور انہوں نے اور نواب صاحب نے فرمایا کہ کیونکہ میرے پاس جیپ ہے اور ٹرانسپورٹ وغیرہ ملتی نہیں اس واسطے میں ان کے ساتھ جاؤں۔اس کے بعد میں اوکاڑہ اور منٹگمری گیا کیونکہ وہاں کام تھا اور اگلے دن رات کو نو دس بجے کے قریب بھائی محمد شریف صاحب کو لے کر واپس ۱۲ پنجے رات کے قریب لاہور پہنچا۔اور اگلے دن بھائی عزیز احمد صاحب کے ساتھ سرگودھا کی طرف چل پڑے۔ایک صاحب جن کو حضور نے ہی اس کام کے واسطے چھانٹا تھا وہ بھی ساتھ تھے۔ہم لوگ شیخو پورہ اور جڑانوالہ کے قریب رقبہ دیکھتے رہے اور پھر اس کے بعد سرگودھا کی طرف کو چل دیئے اور جب چنیوٹ پہنچے اور دریائے چناب نظر آیا تو میں نے بھائی صاحب کو کہا کہ ہمارا مرکز اس دریا کے پار ہونا چاہیے۔۔۔۔پھر ہم لوگوں نے دریا کے شمالی کنارے کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر آگے پھل دیئے اور جس جگہ سے سڑک پہاڑ کو عبور کرتی ہے اور کھلا میدان آجاتا ہے (جس جگہ پر اب ربوہ ہے ) وہاں پہنچے تو بھائی صاحب اور ہم دونوں نے فوراً یہی کہا کہ یہ جگہ ہے جہاں ہمارا مرکز بننا چاہیے۔یہ قطعہ زمین دیکھنے کے بعد چودھری عزیز احمد صاحب نے حضرت امیر المومنین سیدنا الصالح الموعود کی خدمت میں اپنی رائے پیش کر دی۔