تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 289 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 289

۲۸۷ ساتھ سفر سرگودها اختیار فرمایا:- ا قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب -۲- حضرت نواب محمد دین صاحب اتم حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ۴ چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء ۵ - راجہ علی محمد صاحب افسر مال - شیخ محمد دین صاحب دفتر جائیداد صدر انجمن احمدیه راجہ علی محمد صاحب فرماتے ہیں کہ رتن باغ لاہور سے صبح سویر سے روانہ ہو کہ تقریباً دس بجے یہ قافلہ ربوہ میں جہاں ربوہ میں اب بسوں کا اڈہ ہے وہاں پہنچا۔وہاں حضور نے اپنی کار سے نکل کر سڑک پر کھڑے کھڑے رقبہ کا بجائزہ لیا۔بالخصوص سڑک پختہ ریلوے لائن کے درمیان اس رقبہ کے واقع ہونے کا اور اس طرح اس کی جائے وقوع پر غور فرمایا۔پھر حضور نے سڑک کے متوازی سامنے کی پہاڑی پر پڑھ کر پہاڑی کے پیچھے زمین کی سطح کو دیکھنے کا خیال کیا اور پہاڑی پر پڑھنا شروع کیا لیکن اس کی نصف بلندی تک پہنچ کر فرمایا کہ میں کمزوری محسوس کرتا ہوں اور اُو پر نہیں جا سکتا۔اور نیچے اُتر آئے مگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور مکرم و محترم مولوی عبد الرحیم صاحب ورد رضی اللہ عنہا جو حضور کے ساتھ اوپر چڑھ رہے تھے چوٹی پر پہنچے اور آ کر پہاڑی کے پیچھے جو زمین کی صورت تھی۔اس کا حضور سے ذکر کیا۔بعد ازاں سڑک پر تھوڑی دور سرگودھا کی طرف سے آگے چل کر سٹرک پر پانی پینے کے ہینڈ پمپ سے خود چلو میں پانی لے کو چکھا اور فرمایا کہ پانی تو خاصا اچھا ہے۔وہاں سے روانہ ہو گی احمد نگر کے بالمقابل سڑک پچہ اپنی موٹ سے نکل کر نزدیک ہی ایک کنوئیں کے قریب درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور تمام مہرا ہی احباب کے علقہ میں احمد نگر کے چند غیر احمدی معززین سے جو وہاں آگئے تھے مخاطب ہوئے بالخصوص وہاں کے نمبردار چوہدری کرم علی صاحب سے (جو فوت ہو چکے ہیں) دریافت فرمایا کہ دریائے چناب میں سیلاب کے پانی کی زد کی بعد کہاں تک ہے۔نمبردار نے عرض کیا کہ سیلاب کا پانی تو یہاں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔پھر دریافت فرمایا کہ آیا وہ رقبہ جہاں اب ربوہ آباد ہے سیلاب کی زد میں ہے۔اس پر نمبردار مذگور نے کہا کہ وہاں تو پانی صرف ایسی صورت میں پہنچے گا کہ جب سیلاب کے پانی کی بلندی اس درخت کی جس کے نیچے حضور کھڑے