تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 219
۲۱۷ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے خاص انتظامات کے ماتحت تمام عورتوں اور بچوں کے قادیان سے روانہ ہو جانے کے بعد مردوں کے کندھوں سے ان کی حفاظت کی ذمہ داری کا بہت بڑا بوجھ اُتر گیا تو ملٹری اور پولیس نے یہ کہہ کہ کہ بورڈنگ میں سے عورتوں کے پہلے بھانے کی وجہ سے کردوں کے رہنے کی گنجائش نکل آئی ہے فضل عمر ہوسٹل اور قریب قریب کے مکانات جن میں احمدی پناہ گزین تھے جبرا خالی کرانے شروع کر دیئے اور پھر سب کو بورڈنگ میں محبوس کر دیا۔14 بیگار ان ایام میں فوجی پہرہ میں ہم سے کئی قسم کی بیگار بھی لی گئی منتظمین سے کہا جاتا کہ کام کرنے کے لئے فوراً اتنے آدمی بھیج دو ورنہ ملٹری جبرا کام کرائے گی۔ایک دن مولوی ابو العطاء صاحب نے فضل عمر ہوسٹل میں آکر بھی اعلان کیا کہ دوست خود بخود چھلے بھائیں اور احباب چلے گئے۔بیرونی دیہات کے ہزارہا مردہ عورتیں اور بچتے بہت دنوں سے بورڈنگ اور کالج کے وسیع میدانوں میں پڑے تھے جہاں انہوں نے شدید گرمی اور شدید بارشوں کی صعوبتیں جھیلی تھیں اور تھوڑا بہت سامان خاص کہ لحاف اور کپڑا وغیرہ جو گھروں سے لائے تھے وہ ضائع ہو گئے تھے۔جب انہیں جبراً کم اکتوبر کو پیدل بٹالہ کی طرف دھکیلا اور درندہ صفت سیکھوں کے آگے بے دست و پا کر کے ڈال دیا گیا جنہوں نے انتہائی کمینگی کا اظہار کرتے ہوئے بیکسوں کو نہایت بیرحمی سے ٹوٹا اور قتل کیا تو وہ اپنے برتن اپنی چار پائیاں اپنے ٹرنک اپنے لحافہ اور کپڑے جو چیتھڑے ہو چکے تھے اور جو غلاظت سے لتھڑے ہوئے تھے وہیں چھوڑ گئے۔مری نے یہ سب چیزیں ہمارے آدمیوں کو جن میں گریجوایٹ، اعلیٰ تعلیمیافتہ اور اعلیٰ خاندانوں کے افراد بھی شامل تھے بیگار میں پکڑ کر کبھٹی کرائیں۔پھر اینٹیں جن کے فرش بنا کہ پناہ گزینوں نے بارش کے دن گزارے تھے اور کیچڑ میں لت پت ہونے کی بجائے ان پر بیٹھ کر راتیں کاٹی تھیں اُن کو جمع کرانے کے لئے بھی لے اس مقام پر خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم نے احمدی خواتین کی حفاظت کے بارہ میں حضرت مصلح موعود کے کارنامہ پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی جو فصل دوم کا حصہ بن چکا ہے :