تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 218 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 218

۲۱۶ رات بھر ملٹری ہمارے ارد گرد چکر لگاتی اور گولیاں چلاتی رہتی۔ایسی حالت میں ان سکھوں نے شرارتیں کرنی شروع کر دیں۔اور ایک رات ایک مکان سے ہمار کی طرف دو بم بھی پھینکے گئے مگر وہ نہ پھٹے۔اس سے ان کی غرض بورڈنگ خالی کرانا تھی۔مگر ہمارے نوجوانوں کی سر فروشی اور خود حفاظتی کے جذبہ نے انہیں ناکام رکھا اور نوجوانوں کے اسی جذبہ نے اس وقت بھی بہت کام دیا جب عورتوں اور بچوں کو نکالنے کے لئے ملٹری ٹرک بہت بڑی تعداد میں قادیان پہنچے اور ان میں عورتوں اور بچوں کو سوار کر کے روانہ کیا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کو نہ صرت پوری حفاظت کے ساتھ سوار کر لیا گیا بلکہ راستہ میں بھی پوری حفاظت کا انتظام کیا گیا اور سارا قافله امن و امان سے لاہور پہنچ گیا۔جتنے دن عورتیں اور بچے قادیان میں محصور اور غیر معمولی خطرات میں گھرے رہے حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بنباتات ہی بے چین اور بیکل رہے۔اس بے چینی کا کسی قدر اظہار حضور نے ایک والانامہ کے ذریعہ بھی فرمایا جو اہل قادیان کے نام تھا اور سب کو سُنایا گیا اور اس کے سننے سے جہاں ہر مرد د عورت کے حوصلے بلند اور دل اور زیادہ مضبوط ہو گئے وہاں ہر ایک نے یہ بھی محسوس کیا کہ حضور کو اپنی جماعت کے اس ناتواں طبقہ کا جو عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے کس قدر فکر اور خیال ہے اور اس کی حفاظت کے لئے کس قدر بیچین ہیں۔در اصل ظلم وستم کے خوفناک طوفان بیکراں میں سے مرکزہ جماعت کی تمام خواتین اور بچوں کا جن کا شمار ہزاروں میں تھا ہر طرح کی حفاظت کے ساتھ بخیر و عافیت نکال لینا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایک اللہ تعالیٰ کے کارناموں میں سے ایک عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی اہمیت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔اور جوں جوں زمانہ گذرتا جائے گا اور غور و فکر کرنے کا موقعہ ملے گا اس کی اہمیت بڑھتی ہی جائے گی اور غور کرنے والوں کو محو حیرت کرتی رہے گی اور اس سلسلہ میں جین اعتباب کو حضور کے ارشادات اور تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی سعادت حاصل ہوئی اگر اُن میں سے کوئی تفصیلی حالات قلمبند کر کے شائع کرائے تو بہت ہی اچھا ہوئے مه " الفضل " م ا نبوت / نومبر س ش صفحه ۳-۴ به ۶۱۹۴۷