تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 220 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 220

۲۱۸ ہم سے بیگار لی گئی۔یہ اینٹیں جو ہزاروں کی تعداد میں زمین میں گڑی ہوئی تھیں ان کو چونکہ خالی ہاتھوں سے ہمیں اکھیڑنا پڑا۔اس لئے ہمارے ہاتھ اس مشقت سے چھل گئے۔چار چار کوڑی کے ڈوگرہ اور سکھ سپاہی نہیں کام کرتے ہوئے ڈانٹتے ڈیتے بھی اور شاباش شاباش بھی کہتے۔مگر ہمیں ان کی کسی حرکت کی کوئی پروا نہ تھی۔ہم تو اپنے نظام کے ماتحت چل رہے تھے اور قضا و قدر کے کرشمے دیکھتے ہوئے اللہ تعالے کی کبریائی کے ترانے گا رہے تھے۔ایسی حالت میں ان کی شاباش ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے زیادہ ایذا رساں محسوس ہوتی تھی ۱۷ - ملٹری کی لوٹ مار پولیس والوں اور فوجیوں کی لوٹ مار کے شرمناک حادثات کی داستانیں تو روزانہ سُننے میں آتی تھیں۔لیکن اس بارے میں خود مشاہدہ کرنے کا موقع اس وقت ملا جب میں بورڈنگ سے قصبہ میں آگیا اور دفتر " الفضل" کی بالائی منزل میں رہنے لگا۔یہاں سے میں نے دیکھا کہ جب سابقہ مہندوستانی ملٹری کا تبادلہ ہوا۔اور وہ لوگ فوجی ٹرکوں میں بیٹھ کہ روانہ ہوئے تو کئی ایک بڑے بڑے ٹڑک لبالب مختلف قسم کے اسباب سے بھرے ہوئے تھے اور اس کے اُوپر تھوڑے تھوڑے سپاہی بیٹھے تھے۔قادیان سے باہر جانے والوں کو جب ٹرکوں پر چڑھنے کے لئے تھوڑا بہت اسباب لے کر قصبہ سے باہر جانا پڑتا تو ہندو لڑکی کی موجودگی میں سکھوں نے دن دہاڑے رہزنی شروع کر دی۔اکیلے دو کیلے پر اچانک حملہ کر کے اسباب چھین لیتے اور بعض حالتوں میں زخمی کر کے بھاگ جاتے۔البتہ چند افراد اگر اکٹھے مل کر جاتے تو حملہ کرنے کی جرات نہ کرتے۔میں جب بورڈنگ سے قصبہ میں آیا تو میرے ساتھ پانچ سات نو جوان بچے بھی تھے۔اس دن بھی اگرچہ کئی اصحاب پر حملے ہو چکے تھے مگر ہم بخیریت پہنچ گئے۔رہزنی کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مسلمان ملٹری نہ پہنچے گئی۔اور ہر خطرہ کے مقام پر ہندو فوجی کے ساتھ مسلمان فوجی نہ کھڑا کر دیا گیا۔یہ وہ مختصر حالات ہیں جو میں نے آنکھوں دیکھے بیان کئے ہیں۔اگر کانوں نے بھی بیانا کئے جاتے تو یہ المناک داستان نہایت ہی طویل ہو جاتی۔" الفضل" در فتح ا دسمبر صفحه