تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 212
۲۱۰ ہیں۔نہ صرف ان کو بلکہ اُن ماؤں کو بھی جنہوں نے ایسے بہادر اور خدا تعالیٰ کی خاطر فدا ہونے والے سپوت بجھنے ، اُن باپوں کو بھی جن کے ہاں ایسے جوانمرد اور دلیر بچے پیدا ہوئے، ان بہنوں اور بھائیوں کو بھی جن میں وہ کھیلے کو دے اور پروان چڑھے، اُن سہاگنوں کو بھی جن کے سہاگ ہمیشہ کی زندگی پاکہ لازوال بنا گئے، ان بچوں کو بھی جن کی قدر و منزلت کو چار چاند لگا گئے۔وہ خود زندہ ہو گئے کیونکہ خدا تعالے کا ان کے متعلق یہ ارشاد ہے۔و لا تقولوا لِمَنْ يَقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتُ بَل احیاء کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے بہائیں ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔اور دوسروں کے لئے ایسی زندگی میں کرنے کے لئے اس زمانہ میں مثال قائم کر گئے ہیں۔پس ہم ان کے درجات کی مزید بلندی کے لئے دعا کرتے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمار سے ان شہیدوں کو قصر احمدیت میں بلند مقام پر جگمگاتے ہوئے ستارے بنائے گا اور دوسرے نوجوان ان سے روشنی حاصل کریں گے۔ہکار سے ان مقامی اور بیرونی مجاہد نوجوانوں نے اپنے مقامات مقدسہ اور قادیان میں لینے والے لوگوں کی حفاظت کے سلسلہ میں کئی ماہ مسلسل جو خدمات سرانجام دیں ان کا ذکر کوئی ایسا بھائی کرے جو ان کی تفصیلات سے واقف اور ان کا عینی شاہد ہو تو زیادہ موزوں ہو گا۔مجھے ان کی سرگرمیوں اور مجاہدانہ بہد و جہد کا جو ایک آدھ نظارہ اتفاقی دیکھنے کا موقعہ ملا ئیں اسی کا ذکر کر سکتا ہوں۔ہمارے محلہ دار الرحمت میں سکھوں سے مقابلہ کا ایک اور نہایت شاندار کارنامہ بھی عمل میں آیا۔اس وقت جبکہ سکھ محلہ میں داخل ہو چکے تھے۔ملٹی اور پولیس ان کی حمایت میں گولیاں چلا رہی تھی۔ایک اور مکان میں کچھ عورتیں اور بیچتے محصور ہو چکے تھے اور مسلح سکھ غنڈوں نے اس مکان کے ارد گرد منڈلانا شروع کر دیا تھا حتی کہ اس مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔جب نوبت یہانتک پہنچ گئی تو ہمارے نوجوانوں نے مقابلہ کرنا ضروری سمجھا اور وہ ہر قسم کے خطرات کا پورا پورا احساس رکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پولیس اور ملٹری نہ صرف سیکھ ڈاکوؤں اور لٹیروں کی اپنے اسلحہ سے حفاظت کر رہی ہے