تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 211 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 211

۲۰۹ جو اس وقت وہاں پہنچے تھے۔مڑی اور پولیس کی گولیوں اور سکھوں کی چار چار فٹ لمبی کر پانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے صرف لاٹھیاں لے کر دوڑ پڑے اور تھوڑی ہی دیر میں دوسو کے قریب عورتوں اور بچوں کو بحفاظت نکال لائے۔ان عورتوں اور بچوں سے بھی کسی قسم کی گھیرات اور بے صبری کا اظہار نہ ہوتا تھا۔جب ہمارے مجاہد اُن کو اپنی حفاظت میں بورڈنگ کی طرف لا رہے تھے تو موضع براں سے قادیان آنے والے راستے کے قریب جو محلہ دارالرحمت اور محلہ دارالعلوم کے درمیان واقع ہے۔بہت سے مسلح سکھوں نے محملہ کرنے کی کوشش کی یہ دیکھ کر ہمارے نوجوان جن کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں اُن کے مقابلہ میں ڈٹ گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کی خاص مدد اور نصرت فرمائی۔جب تک ملٹری اور پولیس وہاں پہنچی کئی ایک سیکھوں کو انہوں نے مار گرایا اور باقی دُم دبا کر بھاگ گئے اور پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا پہاڑ سے نوجوانوں میں سے کسی کو خراش تک نہ آئی بھا لیکہ ان کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں اور سکھوں کے پاس کر پائیں، اور وہ سمجھتے تھے کہ پولیس اور ملٹری ان کی پشت پناہ ہے خواتین اور بچوں کو نرغہ سے نکالنے کے لئے ہو مجاہدین اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کے مردانہ وار آگے بڑھے تھے اگر چہ وہ اپنے مقصد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوئے لیکن ان میں سے ایک مجاہد جو نہایت سجیلا جوان تھا اور رضا کارانہ قادیان کی حفاظت کا فرض ادا کرنے کے لئے کھاریاں ضلع گجرات سے آیا ہوا تھا۔نیاز علی نام تھا۔نہ معلوم اپنے ساتھیوں سے کس طرح علیحدہ ہو گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ملٹری نے نہایت صفا کی سے اسے گولی کا نشانہ بنایا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ اس کی لاش بھی نہ اُٹھانے دی بعدا تعالے کی بے شمار برکات اور انعامات نافظ ہوں ہمارے اس شہید پر جنہوں نے اس ظلم و ستم کے دور میں مختلف اوقات اور مختلف مقامات میں مومنانہ شجاعت اور بہادری کے جو ہر دکھاتے ہوئے جام شہادت پیدا۔ہماری آئندہ نسلیں ان کی ذات پر فخر کریں گی اور ان کے کارنامے یاد کر کے اپنی محبت اور اخلاص کے پھول ان پر نچھاور کریں گی۔ان کی جھدائی سے ہمارے دل غمگین اور ہماری آنکھیں نمناک ہیں مگر انہوں نے خدا تعالے کی راہ میں اپنی بھائیں قربان کر کے جو درجہ اور مرتبہ حاصل کر لیا ہے اس پر ہم ان کو مبارکباد کہتے