تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 213 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 213

۲۱۲ بلکہ ان کی حمایت میں بیگناہ اور نہتے احمدیوں کو بغیر کسی وجہ کے قتل بھی کر رہی ہے ، سہ پر کفن باندھ کر خواتین کی حفاظت کے لئے اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آن کی آن میں نہ صرف محلہ کا وہ حصہ درندے سکھوں سے خالی ہو گیا جہاں عورتیں اور بچے رو کے پڑے تھے بلکہ ملٹری اور پولیس کے سورے بھی بھاگ گئے اور دُور دُور تک اُن کا نام و نشان نظر نہ آیا۔اس موقعہ کو غنیمت سمجھے کہ اور یہ سمجھے کہ کہ ملڑی اب مزید کمک حاصل کر کے کوٹے گی عورتوں اور بچوں کو بخیریت وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا اس مقابلہ میں بھی کئی سکھ جان سے گئے مگر ہمارے مجاہدین خدا تعالیٰ کے فضل سے بخیریت نکل آئے۔یہ ہیں اس سفا کا نہ حملہ کے کچھ حالات جو مسلح سکھوں کے ایک بہت بڑے ہجوم نے پولیس اور ملٹری کی معیت میں محلہ دار الرحمت پر گیا اور جو پولیس کی عائد کردہ شدید پابندیوں کی وجہ سے میں محض اتفاقیہ طور پہ ایک نہایت محدود حلقہ میں دیکھ سکا کیونکہ اس بات کا کوئی امکان ہی نہ تھا کہ چل پھر کے سارے حالات معلوم کیئے جا سکتے۔ان بیان کردہ حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قادیان کی بے بس اور نہتی آبادی کو اس کے گھروں سے نکالنے اور اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پچھلے جانے کے لئے ملٹری اور پولیس نے سکھوں کو امداد دے کر کیا سفاکانہ حملہ کرایا اور کیسے کیسے شرمناک مظالم کا نشانہ بنایا۔۹۔حیرت انگیز غلط بیانی مگر ہندوستان ریڈیو نے اپنے ایک بڑے افسر کے حوالہ سے اعلان کیا کہ قادیان پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا بلکہ لوگ نخود بخود گھر چھوڑ کر گھروں سے نکل گئے اور لکھا گیا کہ قادیان کے کیا ارد گرد چونکہ سکھوں کے گاؤں آباد ہیں اس لئے احمدی قدرتاً خوفزدہ ہو کر اپنے گھر چھوڑ گئے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ احمدی نہ کبھی ارد گرد کے سکیموں سے خوفزدہ ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے اور اس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ وہ سکھ جنہوں نے علاقہ میں ایک عرصہ سے ٹوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا اور جب سے گورداسپور کو ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا اس وقت سے تو سکھوں کی سفاکیاں اور ستم آرائیاں حد سے بڑھ چکی