تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 201
199 دو۔انگوٹھا بیشک نہ لگاؤ وہ ہم کسی اور کا لگالیں گے اور وہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کی حالت میں مبتلا نظر آرہا تھا۔ان حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔قادیان میں قیام امن کے ذمہ داروں اور قانون کے محافظوں نے مصیبت زدہ ستم رسیدہ اور بے دست و پا مسلمانوں کو کن جکڑ بندیوں میں کس رکھا تھا اور ان کے مقابلہ میں ظالموں ، ٹیروں ، ڈاکوؤں ، قاتلوں ، قانون شکنوں کو کس طرح ظلم پر ظلم کرنے کے لئے آزادی دے رکھی تھی اور پھر کس دیدہ دلیری سے ان کی مدد کی سباتی ،اور انہیں آسانیاں اور سہولتیں بہم پہنچائی جاتی تھیں لیے -- تجمیلی بند قادیان میں ایک طرف تو کر نیو گا کہ احمدیوں کو مجبور کر دیا گیا کہ 4 بجے شام سے پانچ ساڑھے پانچ بجے صبح تک گھر وں میں بند رہیں اور ہزارہ اپناہ گزین مرد عورتیں اور بیچتے جو قادیان کے گلی کوچوں اور ارد گرد کے کھیتوں میں دور دور تک پڑے تھے اپنی اپنی جگہ پر دبک جائیں اور دوسری طرف کوچکی بند کر کے تمام آبادی کو تاریکی اور ظلمت میں گم کر دینے کی ظالمانہ کوشش کی گئی۔علاوہ ازیں قریباً دو لاکھ کی مظلوم اور ستم رسیدہ آبادی کو بھوکوں مارنے کے لئے آٹا پیسنے والی مشینوں کو جو بجلی سے چلتی تھیں آٹا پینے کے ناقابل بنا دیا اور آخر کار بجلی اس وقت تک جاری نہ ہوئی جب تک کثیر التعداد مسلم سکھ لٹیروں کے ساتھ مل کر ملٹری اور پولیس نے قادیان میں بسنے والے لوگوں کو نہایت ہی بے سرو سامانی کی حالت میں انتہائی جبر وقت ہو کر کے گھروں سے نہ نکال دیا۔کہیں دن یہ ظالمانہ اقدام کیا گیا اور جب کئی میلوں میں پھیلی ہوئی قادیان کی آبادی کو سمیٹ کر اندرون اور بیرون شہر کے دو نہایت ہی محندو وحلقوں میں ٹھونس دیا گیا اور مکانات عالی کرا لئے گئے تو اسی دن شام کے قریب بھلی بھی جاری کر دی گئی تاکہ رات کی تاریکی سکھ لٹیروں کی راہ میں حائل نہ ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ ایک ایک چیز پسند کر کے اور قیمتی اشیاء پچھانٹ چھانٹ کر لے بھا سکیں چنانچہ صبح تک محلہ دار الرحمت کا کوئی مکان ایسا نہ رہا جو مکمل طور پر ٹوٹ نہ لیا گیا۔دوسرے محلوں اور پرانی آبادی کے بعض مکانات بجھ گئے لیکن ایسے تمام مکانات پر جن کے مالک مکان خالی کر دینے پر مجبور کر دیئے گئے " الفضل ۲۹ مرا حیاء اکتوبر ۳۲۶ پیش رہ ہیں ۱۹۴۷ء