تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 202 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 202

تھے ملٹری اور پولیس نے قبضہ کر لیا اور مالکوں کو اپنے مکانوں میں جانے اور بھر سے گھروں سے کھانے پینے اور پہننے تک کے لئے کوئی چیز لانے سے روک دیا اور اگر کوئی کچھ لاتا ہوا نظر آیا تو اس سے چھین لیا۔پھر جبلی بند ہو جانے کے دوران میں سیکھ لٹیروں اور غنڈوں کے رات کے جملوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔سر شام ہی مختلف اطراف سے چیخ و پکار اور آہ و فغاں کی درد ناک آوازیں آنی شروع ہو جاتیں۔ملٹری بڑی فیاضی سے رات بھر بندوقوں اور برین گنوں کے منہ کھولے رکھتی لیکن نہ تو کوئی قاتل اور لٹیر اسکھ ان کی زد میں آتا اور نہ ہی ستم رسیدہ مسلمانوں کی آہ و زاری بند ہوتی۔عرض مسلسل کئی دنوں تک پبلی بند کر کے اور اس وقت تک بند رکھ کر جبتک مکانات سے ان کے مکینوں کو نکال نہ دیا گیا سکھ غنڈوں نے ملٹری اور پولیس کی امداد سے وہ وہ ستم ڈھائے جو حد بیان سے باہر ہیں۔۳۔غلہ چھین لیا بجلی سے پھلنے والی آٹا پیسنے کی مشینوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے گو کھانے کی سخت وقت پیش آئی کیونکہ کثیر التعداد انسانوں کو آٹے سے محروم کر کے فاقہ کشی کے لئے مجبور کر دیا گیا۔تاہم ان حالات میں جو کچھ ہو سکتا تھا کیا گیا۔اکثر لوگ گیہوں ابال کہ اس سے پیٹ بھرنے لگے بعض گھروں میں بستی چکیاں تھیں وہ دن رات پھلنے لگیں اور مرد عورتیں آٹا پینے لگے۔ہمارے محلہ میں ایک تیل سے چلنے والی چکی تھی وہ ادھر ادھر سے تیل مہیا کر کے حرکت میں آنے کی کوشش کرتی رہی لیکن یہ جد و جہد ان لوگوں کو کب گوارا ہو سکتی تھی جو دن رات مظلومین کو زیاد سے زیادہ دُکھ دینے میں مصروف رہتے اور روز نئے ستم ایجاد کرنے میں منہمک ہوتے تھے۔انہوں نے یہ منادی کرادی کہ کسی گھر میں دو بوری سے زائد گندم نہیں رہنی چاہیئے اور سب گندم پول میں چوکی میں پہنچا دی جائے اور دوسری طرف تیل کی بیکی پر قبضہ کر کے پہرہ بٹھا دیا۔وہاں جس قدر آٹا اور سفلہ موجود تھا وہ چھین لیا اور اس کے ساتھ ہی جو مرد عورتیں اور بچے تھوڑا تھوڑا غلہ پسانے کے لئے بیٹھے تھے اُن سے چھین لیا۔اگر کسی نے اپنی فاقہ کشی کی درد ناک کہانی سناتے