تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 199
194 کھڑے ہو کر کسی قدر ان کی نقل و حرکت دیکھ سکا۔اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ میں چشم دید واقعات اور دوسرے حالات جو براہ راست شنید سے تعلق رکھتے ہیں اور سین کی صداقت میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، احباب کے سامنے پیش کروں۔ا بلا وجہ کر فید قادیان میں تشدد تو اسی دن سے شروع کر دیا گیا تھا جس دن کہ مسلمان ملٹری کو واپس بلا لیا گیا تھا۔گو ارد گرد کے مسلمانوں کے دیہات اس سے پہلے ہی سکھوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن کر اور اپنا سب کچھ لٹا کر ہزاروں کی تعداد میں روزانہ قادیان آنے لگ گئے تھے۔لیکن ۲۱ ستمبر کو جب قادیان میں بلا وجہ کہ فیو لگا دیا گیا۔بلا وجہ اس لئے کہ فرقہ وارانہ فساد تو رہا ایک طرف ، کوئی معمولی لڑائی جھگڑے کا واقعہ بھی تو رونما نہ ہوا تھا اور نہ اس بات کا امکان تھا۔کیونکہ جماعت احمدیہ کو نہ صرف پر امن رہنے اور قانون کی پوری پوری پابندی کرنے کے متعلق حضرت امام جماعت آمدید ایدہ اللہ تعالے احکام جاری کر چکے تھے جن کی تعمیل مہر احمدی اپنے لئے باعث سعاد یقین کرتا تھا خواہ اس کے لئے اپنی جان اور حال ہی کیوں نہ قربان کر دینا پڑتا۔بلکہ یہ بھی ارشاد فرما چکے تھے کہ ان مصیبت اور افراتفری کے ایام میں ہر اس شخص کو اعداد دو جو تمہار کی امداد کا محتاج ہو خواہ وہ کسی مذہب کا ہو۔اور ہر وہ امداد دو جو تم دے سکتے ہو۔اس ارشاد کی تعمیل بھی ہر احمد می کے فرائض میں داخل تھی۔ان حالات میں یہ کس طرح ممکن تھا کہ قادیان میں کوئی احمدی کسی قانون کی خواہ وہ ہنگامی ہوتا یا مستقل خلاف ورزی کرتا اور کسی لڑائی جھگڑا ہے کی خواہ وہ کیسا ہی مجبور کن ہوتا طرح ڈالتا۔ہاں اپنی عزت و آبہ و اور بجان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے قانون شکن حملہ آوروں کا مقابلہ احمدی اپنا حق سمجھتے تھے، ایسا حق جو ہر مہذب گورنمنٹ نے اپنی رعایا کو دے لکھا ہے اور حسین کا انکار کوئی حکومت کھلم کھلا کر کے دنیا میں کمند دکھانے کے قابل نہیں رہ سکتی۔قادیان میں مقیم پولیس نے اسی حق سے احمدیوں کو محروم کرنے اور قانون شکن سیکھ غنڈوں کو خلاف امن وقانون کھلا چھوڑ دینے کے لئے ۲۱ ستمبر سے کر نیو لگا دیا اور اس طرح مسلمانوں کو مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں مسجدوں میں ادا کرنے سے روک دیا۔پھر گھنٹی اتنی تھوڑی دیر اور اتنی ہلکی بھائی جاتی کہ عام طور پر کرفیو کے شروع