تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 198
194 قریشی ضیاء الدین صاحب بی۔اے ، ایل ایل بی ایڈووکیٹ اور بعض دوسرے اصحاب نے بھی اپنے چشم دید اور گوش شنید واقعات شائع کرا دیئے تھے جن میں سب سے مفصل خواجہ غلام نبی صاحب بانوی کے قلم سے نکلے جنہوں نے قادیان کے المناک اور خونچکاں حادثات میں سے کچھ" کے زیر عنوان آٹھ اقط میں ایک مبسوط اور مستند مضمون لکھا تھا جو ذیل میں لفظ لفظ درج کیا جاتا ہے :- " لیکن حال ہی میں اس قافلہ کے ساتھ قادیان سے لاہور پہنچا ہوں جس میں پچاس سال سے زائد عمر کے اصحاب کو بھیجا گیا ہے۔میں نے قادیان میں شروع سے لے کر ۱۲۰ اکتوبر تک اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اور کانوں سے سنا وہ اگر چہ مقامی پولیس اور ملٹری کی عائد کردہ پابندیوں اور انتہائی خطرات کی وجہ سے جو سیلاب کی طرح اُمڈے پہلے آتے تھے ، ایک نہایت ہی محدود اور مختصر حلقہ سے تعلق رکھتا ہے۔تاہم اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ ان ایام میں قادیان کی مقدس بستی اور اس کے امن پسند ساکنین جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان میں آ بیٹھے تھے اور جن کی زندگی کا مقصد اپنے خالق و مالک کی عبادت اور رضا ہوئی اور اس کی مخلوق کی خواہ وہ کسی مذہب وملت کی ہو خدمت گزاری اور خیر خواہی تھی اور جو گذشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے اپنے قول اور فعل سے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت دُنیا کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، ان پر کیا کچھ گزری۔کیسے کیسے شرمناک اور انسانیت سوز مظالم کا انہیں نشانہ بنایا گیا اور حکومت کے ان کارندوں نے جو قیام امن کے ذمہ دار ، قانون کے محافظ اور رعایا کی جان و مال اور عزت و آبمہو کے نگہبان سمجھے جاتے ہیں۔امن پسند، قانون کے پابند اور مخلوق مخدا کے حقیقی خیر خواہ اور ہمدرد انسانوں کو بلا وجہ اور بغیر قصور کس طرح انتہائی مصائب اور آلام کا نشانہ بنایا اور اس وقت تک چین نہ لیا جب تک گلستان کی طرح پھلے پھولے قادیان کو اور اسکی بے شرر ساکتین کو بے گھر نہ کر دیا اور بستے گھروں کو اٹھاڑ کر روشی لٹیروں کی تحویل میں نہ دے دیا چونکہ میرا امکان محلہ دارالرحمت میں واقع تھا اور آبادی کے مغرب میں اسی طرف تھا جدھر سے سوچی سمجھی ہوئی سکیم کے مطابق انتہائی شدت اور پورے انتظام کے ساتھ سیکھ غنڈوں نے کثیر تعداد میں جمع ہو کر پولیس اور ملٹری کی امداد کے ساتھ ۳ اکتو بہ کو مسلہ کیا اور میں اپنے مکان کی چھت پر له الفضل " صلح جنوری، همرامان / مارچ ، ۹ در امان مارجش : ۲۱۹۴۸