تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 197
۱۹۵ نگرید صرف قادیان کا سوال نہیں بلکہ اسلامی مقدس مقامات کا سوال ہے مثلاً سر سہند درگاه نظام الدین اولیاء ، درگاہ اجمیر شریف وغیرہ۔ان کے متعلق با عزت سمجھوتہ کی کوشش ہوتی چاہیے۔آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں ہمارے مقدس مقامات جو مشرقی پنجاب اور ہندوستان میں واقع ہیں ہمیں ان کو بغیر قربانی کے کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ قومی زندگی کے لئے ایسی قربانیاں نہایت ضروری ہوتی ہیں۔آپ نے کشمیر کے متعلق فرمایا کہ کشمیر اور حیدر آباد کا فیصلہ اکٹھا اور ایک ہی اصول پر ہونا چاہئیے ورنہ ڈر ہے کہ دونوں ہاتھ سے نکل جائیں۔اگر حکمران کی مرضی پر فیصلہ ہو تو ہمیں حیدر آباد مل بجائے گا اور اگر رعایا کی مرضی پر ہو تو ہمیں کشمیر مل بھائے گا۔اگر اکٹھا فیصلہ نہ ہوا تو اس سے مسلمانوں کو سخت نقصان ہوگا۔کیونکہ ایک فیصلہ کو اپنے حق میں کرا کے انڈین یونین پھر اپنا اصول بدل کر دوسری ریاست کے بارے میں جھگڑا کر سکتی ہے۔بالآخر آپ نے فرمایا کہ گو حیدر آباد اور کشمیر دونوں کا سوال اہم ہے مگر بعض لحاظ سے میرے خیال میں کشمیر کا معاملہ بہت زیادہ اہم ہے خصوصاً اس لئے کہ اس سے پاکستان کی حفاظت اور مضبوطی پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے کہ " ، اس پر قادیان پر جبر و تشدد کے متفرق خونی واقعات کا قادیان کے کوائف کا خلاصہ ، اس حملہ کی تفصیلات درج ہو چکیں۔اب جامع نقشہ ایک مستند عینی شاہد کے قلم سے ہمیں اس دور جبر و تعلم کے متفرق خونی واقعات کا ایک جامع نقشہ قارئین کے سامنے رکھنا ہے۔سیدنا المصلح الموعود اور حضرت قمرالا بیار کے علاوہ قادیان سے ہجرت کے معاً بعد متعدد اہل قلم احمدی اصحاب مثلاً خواجہ غلام نبی صاحب تے سے بلانوی سابق ایڈیٹر افضل ، حضرت ڈاکٹر مہ طفیل صاحب بٹالوی ، مولانا ابوالعطاء صاحب اور "الفضل" ٢٧ اخاها اکتوبر س ش صفحه ۳ - ۵ به سے ملاحظہ ہو " الفضل " ، نبوت / نومبر ۳۲ مش صفحه ۴۰۴ + سے آپ کے ایام محاصرہ سے متعلق دو قیمتی نوسٹ" الفضا" ۲۴ تبلیغ فروری فریم ، " الفضل " ۳۰ را مضاد اکتوبر ۳۷ میں صفحہ دل میں شائع شاہ ہیں ؟ م