تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 196
۱۹۴ ہے۔آپ نے کہا کہ ہمارے ۲۰ آدمی وہاں تھلوں میں مارے گئے ہیں۔قادیان میں دونوں حکومتوں کے نمائندے جنرل کری آپا کے حکم سے تحقیقات کے لئے گئے تھے لیکن جنرل تھمایا نے حکومت ہندوستان کو بالکل خلافت واقعہ رپورٹ دی ہے۔اتنے بڑے افسر سے اتنی امید نہ تھی۔آپ کے قادیان میں اس وفد کے سامنے ہمارے لوگوں نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ۲۰۰ مسلمان شہید ہوئے ہیں اور حملہ کر وا کر ہمارے محلوں کو لوٹ لیا اور خالی کرا لیا گیا اور بے شمار مال لوٹ لیا گیا اس پہ جب جنرل تھمایا نے سوال کیا کہ میری رپورٹ تو یہ ہے کہ صرف تیس آدمی مرے ہیں۔تو میرے بڑے لڑکے نے بتایا کہ میں آپ کو صرف ایک گڑھا ایسا بتا سکتا ہوں نہیں میں بہم مسلمان رے پڑے ہیں اور ابھی اور بھی بہت سے گڑھے ہیں۔اس پر تھا یا صاحب خاموش ہو گئے۔مگر پھر بھی بیان اس کے خلاف دیا جن پناہ گزینوں کو قافلوں کی موت میں قادیان سے بالجبر بھیجا گیا تھا ان کو خوراک نہیں دی گئی۔ایک بصورت کا بیان ہے کہ اس نے چھ دن شیشم کے پتے کھا کر گزار ہے۔ہماری جماعت نے قادیان سے قافلے کے لئے ۲۰ بوری گندم ابال کر افسروں کی تنخواہش پر بھیجی مگر وہ بھی اُن کو نہ دی گئی اور بھانوروں کو کھلا دی گئی۔پھر کئی دن کے بعد ان کو آدھی آدھی روٹی دی گئی اور ساتھ یہ کہا کہ ہم نے مسٹر جنات اور تمہارے خلیفہ کو تار دی تھی مگر انہوں نے روٹی نہیں دی مگر آج نہرو جی کی طرف سے تم کو کھلائی بھاتی ہے۔ان حالات کے باوجود ہمارا پختہ ارادہ ہے کہ تب تک حکومت ہندوستان ہم کو قادیان سے نکل جانے کا حکم نہیں دے گی ہمارے آدمی قادیان کو نہیں چھوڑیں گے اگر یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے نوجوان وہاں مارے جائیں گے مگر قومیں قربانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں۔اگر ہم آج قربانیاں نہ دیں گے تو ہماری آئندہ نسلوں کو بھی قربانیاں دینے کی تحریک نہ ہو گی۔آپ نے فرمایا کہ میرے لڑکے نے بذریعہ فون مجھے بتایا ہے کہ ایک اکالی لیڈر نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ اگر تنکانہ صاحب کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا ہمیں یقین دلایا جائے تو ہم قادیا کے مقدس حصہ کو آباد رہنے دیں گے۔