تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 195 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 195

۱۹۳ قربانی ضائع نہ بھائے بلکہ ہماری جماعت کے افراد اُن سے سبق حاصل کریں اور اسی قسم کی قربانی کے لئے ہر احمدی تیار ہے لہ کو الفت قادیان سے تعلق سیدنا الصلح الموجود سیدنا حضرت امیرالمومنین الصلح الموعود رضی الله عنه " نے رانا در اکتوبر سات سالہ پیش کو لاہور کے پریس نمائندا کی پریس کانفرنس کو بیان دیتے ہوئے فرمایا :- "قادیان کے مقامی افسراب ہم کو قادیان سے ایسی چیزیں اور سامان بھی نہیں لانے دیتے ہیں کی ان کو تو ضرورت نہیں مگر ہمارے لئے وہ نہایت ضروری ہے مثلاً ہماری لائیبریری کو جس میں ہماری مذہبی علمی کتب کا نہایت قیمتی ذخیرہ ہے جن میں بعض عربی کے قلمی نسخے بھی ہیں بند کر کے مُہر لگا دی گئی ہے۔نیز ہمارے ضیاء الاسلام پر لیس کو بھی جس سے افضل چھپتا تھا میں کر دیا گیا ہے۔پھر ہماری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا سامان ہے۔ڈاکٹر بھٹناگر نے جب وہ قادریان گئے تھے تو انہوں نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان کے بہترین انسٹی ٹیوٹوں میں اس کا شمار ہو سکتا ہے لیکن مسلمانوں کا تو یہ واحد سائنس کا ادارہ ہے وہ بھی ضبط ہو گیا ہے۔فسادات کی وجہ سے ہمارا یہ کام دو سال پیچھے جا پڑا ہے۔آپ نے فرمایا۔اب ہمارے ٹرک جو قادیان سے عورتوں اور بچوں کے لینے کے لئے گئے تھے پہلے ان کو باہر ہی روک دیا گیا۔پھر جب وہ باہر سامان اور بچوں اور عورتوں کو لے کہ نکلے تو سکھوں اور پولیس نے حملہ کر کے سامان لوٹ لیا۔حالانکہ یہاں سے ہندو اور سکھ پناہ گزین بہت سا سامان ساتھ لے بھاتے ہیں مگر ادھر سے مسلمانوں کا سامان نہیں آنے دیا بھاتا۔آپ نے کہا کہ قادیان کی بڑی آبادی کو نہایت چھوٹی سی بیگہ میں مقید کر دیا گیا ہے۔یہانتک کہ کثرت نفوس کی وجہ سے ٹخنوں ٹخنوں تک غلاظت جمع ہو گئی تھی جس کو ہمارے لڑکوں اور دیگر احمدیوں نے خود صاف کیا ہسپتال بھی ہمارے قبضہ سے لے لیا گیا ہے اور زخمیوں اور بیماروں کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے جن کا اب علاج کرنا بھی مشکل ہو گیا الفضل " ۱۸ را خادر اکتوبر سرمایش صفحه ۱-۲ :