تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 188
میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اب قادیان پر ظلم توڑے بھائیں گے۔لاہور میں کئی دوستوں کو میں نے یہ کہ دیا تھا اور مغربی پنجاب کے بعض حکام کو بھی اپنے اس خیال کی اطلاع دے دی تھی۔اس خطرہ کے مد نظر ہم نے کئی ذرائع سے مشرقی پنجاب کے حکام سے فون کر کے حالات معلوم کئے۔لیکن ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ قادیان میں بالکل خیریت ہے اور احمدی اپنے محلوں میں آرام سے نہیں رہے ہیں۔صرف سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے کنوائے کو روکا گیا لیکن جب اس بات پر غور کیا جاتا کہ لاہور ایویکویشن کمانڈر کی طرف سے مشرقی پنجاب کے ملٹری حکام کو بعض کنوانہ کی اطلاع دی گئی اور انہیں کہا کہ اگر قادیان کی طرف کنوائے جانے میں کوئی روک ہے تو آپ ہم کو بتا دیں میجر مینی سے بھی پوچھا گیا ور برگیڈیر پر نچ پائے متعینہ گورداسپور سے بھی پوچھا گیا تو ان سب نے اطلاع اور دی که قادیان جانے میں کوئی روک نہیں۔باوجود اس کے جب کنوائے گئے تو اُن کو بٹالہ ! گورو اسپور سے واپس کر دیا گیا۔یہ واقعات پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ان واقعات نے میرے شبہات کو اور بھی قوی کر دیا۔آخر ایک دن ایک فون جو قادیان سے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے نام کیا گیا تھا اتفاقاً سیالکوٹ میں بھی سنا گیا۔معلوم ہوا کہ قادیان پر دو دن سے حملہ ہو رہا ہے اور بے انتہا ظلم توڑے جا رہے ہیں۔پولیس حملہ آوروں کے آگے آگے پھلتی ہے اور گولیاں مار مار کر احمدیوں کا صفایا کر رہی ہے۔تب اصل حقیقت معلوم ہوئی۔دوسرے دن ایک سب انسپکٹر پولیں تو بھٹی پر قا دیان گیا ہوا تھا کسی ذریعہ سے نہیں کا ظاہر کرنا مناسب نہیں لاہور پہنچا اور اس نے بہت سی تفاصیل بیان کیں۔اس کے بعد ایک ملڑی گاڑی میں جو قادیان بعض مغربی پنجاب کے افسروں اور بعض مشرقی پنجاب کے افسروں کو قادیان کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجی گئی تھی ہیں بعض اور لوگ تھے جنہوں نے اور تفصیل بیان کی ان حالات سے معلوم ہوا کہ حملہ سے پہلے کرفیو لگا دیا گیا تھا۔پہلے قادیان کی پرانی آبادی پر چین میں احمدیہ جماعت کے مرکز می دفاتر واقع ہیں، حملہ کیا گیا۔اس حصہ کے لوگ اس حملہ کا مقابلہ کرنے لگے۔انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ باہر کے محلوں پر بھی تھوڑی دیر بعد حملہ کر دیا گیا ہے۔یہ لوگ سات گھنٹہ تک لڑتے رہے اور اس خیال میں رہے کہ یہ حملہ صرف مرکزی مقام پر ہے۔مه جناب راجہ محمد عبد الله خان صاحب ( ابن راحیه مرد تقال صاحب ) مراد ہیں (مرتب) : !