تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 187
۱۸۵ نکل جائے گا اور ۲۵ لاکھ مسلمانوں میں سے بمشکل ایک دو لاکھ ادھر پہنچے گا یا کوئی اتفاقی بچکہ سکلا تو نکلا ور جو کچھ سکھ جتھے اور سکھ ملٹری اور پولیس ان سے کر رہی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی امیدان کے بچنے کی نظر نہیں آتی۔بعض چھوٹے افسر یہ کہتے بھی سُنے گئے ہیں کہ مغربی پنجاب اتنے پناہ گزینوں کو سنبھال نہیں سکتا۔پس جتنے مسلمان ادھر مرتے ہیں اس سے آبادی کا کام آسان ہو رہا ہے۔یہ ایک نہایت ہی خطرناک خیال ہے ہمیں یقین ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت کے اعلیٰ حکام اور وزراء کا یہ خیال نہیں مگر اس قسم کا خیال چند آدمیوں کے دلوں میں بھی پیدا ہونا قوم کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔مغربی پنجاب کے مسلمانوں کو جلدی منظم ہو جانا چاہیے اور جلد اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی سعی کرنی چاہیئے۔اگر آج تمام مسلمان منتظم ہو جائیں اور اگر آج بھی حکومت اور رعایا کے درمیان مضبوط تعاون پیدا ہو جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمان اس الا عظیم میں گزرنے کے بعدبھی بن سکتا ہے اور ترقی کی طرف اس کا قدم بڑھ سکتا ہے سيد الصلح الموعود کا تیسرا مضمون مندرجہ بالا و مضامین کے بعد سید الصلح المولد نے میرا Lu اہم مضمون" قادیان کی خونریز جنگ "کے عنوان سے تحریر فرمایا بعنوان" قادیان کی خونریز جنگ" جس میں پہلی بار دنیا کے سامنے حملہ کی اہم تفصیلات منظر عام پر آئیں۔اس مضمون کا مکمل متن یہ تھا۔رو اعوذُبِ اللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيم سمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم۔تحدة ونصل عَلَى رَسُول الكريم هُوَ الشَّ + خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ قادیان کی خونریز جنگ ) از حضرت امیرالمومنین ایک اللہ تعالٰی ) سامير اکتوبر کی پہلی تاریخ کو جب گورداسپور کی ملٹری نے قادیان میں کنوائے بجانے کی مانعت کر دی تو 6+ له الفضل و محاور اکتوبر ۱۳۳۶ به بیش صفحه ۲۰۱ ہے۔یہ مضمون بھی جو پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا تھا بھارتی حکومت نے ضبط کر لیا تھا۔