تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 189 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 189

IAL باہر کے مقام محفوظ ہیں۔چونکہ جماعت احمدیہ کا یہ فیصلہ تھا کہ ہم نے عملہ نہیں کرنا بلکہ شر دفاع کرنا ہے اس لئے تمام محلوں کی حکم دیا گیا تھا کہ جب تک ایک خاص اشارہ نہ کیا جائے کسی محلہ کو با قاعدہ لڑائی کی اجازت نہیں۔جب افسر یہ تسلی کرلیں کہ حملہ اتنا لمبا ہو گیا ہے کہ اب کوئی شخص یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ احمدیہ جماعت نے مقابلہ میں ابتدا کی ہے ، وہ مقررہ اشارہ کریں گے اس وقت جماعت منظم طور پر مقابلہ کرے گی۔اس فیصلہ میں ایک کو تا ہی رہ گئی وہ یہ کہ اس بات کو نہیں سوچھا گیا کہ اگر پولیس بیرونی شہر اور اندرونی شہر کے تعلقات کو کاٹ دے تو ایک دوسرے کے حالات کا علم نہ ہو سکے گا نہیں ان حالات میں ہر محلہ کا الگ کمانڈر مقررہ ہو جانا چاہئیے بھو ضرورت کے وقت آزادانہ کارروائی کر سکے۔یہ غلطی اس وجہ سے ہوئی کہ قادیان کے لوگ فوجی تجربہ نہیں رکھتے وہ تو مبلغ ، مدرس ، پروفیسر ، تاجر اور زمیندار ہیں۔ہر قسم کے فوجی نقطہ نگاہ پر عادی ہونا ان کے لئے مشکل ہے۔بہر حال یہ غلطی ہوئی اور باہر کے محلوں نے اس بات کا انتظار کیا کہ جب ہم کو وہ اشارہ ملے گا۔تب ہم مقابلہ کریں گے۔لیکن اس وقت اتفاق سے سب وقمه دار کارکن مرکزی دفاتر میں تھے اور باہر کے محلوں میں کوئی ذمہ دار افسر نہیں تھا۔اور مرکز کے لوگ غلطی سے یہ سمجھ رہے تھے کہ حملہ صرف مرکزی مقام پر ہے باہر کے محلوں پر نہیں اور باہر کے حملے یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے حالات کا علم مرکزی محلہ کو ہوگا کسی مصلحت کی وحید سے انہوں نے نہیں مقابلہ کرنے کا اشارہ نہیں کیا۔سات گھنٹہ کی لڑائی کے بعد جب مرکزی محلہ پر زور بڑھا تو مرکزی محلہ کی حفاظت کے لئے معین اشارہ کیا گیا مگر اس وقت تک بہت سے بیرونی محلوں کو پولیس اور ایک حد تک ملڑی کے حملے صاف کروا چکے تھے۔حملہ آوروں کی بہادری کا یہ حال تھا کہ سات گھنٹہ کے حملہ کے بعد جب جوابی حملہ کا بنگل بجایا گیا تو پانچ منٹ کے اندر پولیس اور حملہ آور سمجھتے بھاگ کر میدان تعالی کو گئے۔ان حملوں میں دوسو سے زیادہ آدمی مارے گئے لیکن ان کی لاشیں جماعت کو اُٹھا نے نہیں دی گئیں تا اُن کی تعداد کا بھی علم نہ ہو سکے اور ان کی شناخت بھی نہ ہو سکے۔بغیر جنازہ کے اور بغیر اسلامی احکام کی ادائیگی کے یہ لوگ ظالم مشرقی پولیس کے ہاتھوں مختلف گڑھوں میں دبا دیئے گئے تاکہ دنیا کو اس ظلم کا اندازہ نہ ہو سکے جو اس دن قادیان میں مشرقی پنجاب کی پولیس نے کیا تھا۔مشرقی پنجاب کے