تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 8
جائے اور ساری ہی جماعت مرتد ہو جائے تب بھی میں اس صداقت کو نہیں چھوڑوں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے اور اس وقت تک تبلیغ بھاری رکھوں گا جب تک وہ صداقت دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی۔شاید اللہ تعالیٰ مجھ سے اب ایک اور عہد لینا چاہتا ہے۔وہ وقت میری جوانی کا تھا اور یہ وقت میرے بڑھاپے کا ہے لیکن اللہ تعالی کے کام کرنے کے لئے ہوائی اور بڑھاپے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔جس عمر میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے کھڑا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو برکت بل بجائے اسی عمر میں وہ کامیابی اور کامرانی حاصل کر سکتا ہے۔لاہو رہی تھا جس میں میں نے وہ عہد کیا تھا اور یہاں پاس ہی کیلیاں والی سڑک پر وہ جگہ ہے۔شاید یہاں سے ایک لکیر کھینچی جائے تو وہ جگہ اسی کے محاذ میں واقع ہوگی۔بہر حال اسی لاہور اور ویسے ہی تا یک حالات میں میں اللہ تعالیٰ سے تو فیق چاہتے ہوئے یہ اقرار کرتا ہوں کہ خواہ جماعت کو کوئی بھی دھکا لگے میں اس کے فضل اور اس کے احسان سے کسی اپنے صدمہ یا اپنے دکھ کو اس کام میں حائل نہیں ہوتے دوں گا۔بفضلہ تعالیٰ و توفیقہ و بنصرہ جو خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے قائم کرنے کا میرے سپرد کیا ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے میری تائید فرمائے۔باوجود اس کے کہ میں اب عمر کے لحاظ سے ساٹھ سال کے قریب ہوں اور ابتلاؤں اور مشکلات نے میری ہڈیوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔پھر بھی میرے کتی و قیوم خدا سے بعید نہیں۔امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل کرم سے میرے مرنے سے پہلے مجھے اسلام کی فتح کا دن دکھا دے" حضرت سید نامحمود نے اپنے زمانہ شباب کے عزم کو کس شان سے پورا کر دکھایا ، اس کا مفصل تذکرہ تاریخ احمدیت کی گذشتہ سات جلدوں میں آچکا ہے۔اب موجودہ جلد سے ان واقعات پر روشنی ڈالی جائے گی جو حضور کے اُس مقدس اور ولولہ انگیز عہد سے وابستہ ہیں۔جو حضور نے بڑھاپے کے وقت ایک نئی امنگ ، نئے شوق اور نئے جوش کے ساتھ کیا اور " الفضل " ۲۱ تبوک / ستمبر ۱۳۳۶ به بیش صفحه ۱-۱۲ 1902