تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 7 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 7

دو سر نے جماعت احمدیہ کو اس خطرناک اور تباہ کن مالی بحران سے نجات دلانا ضروری تھا جس کی طرف حالات تیزی سے بہائے لئے بجا رہے تھے۔اخراجات بے تحاشا اُٹھ رہے تھے مگر ذرائع آمد قطعی طور پر بند تھے۔وقت کا تیسرا اور اہم ترین تقاضا یہ تھا کہ پہلے ایک عبوری اور پھر جلدی ہی ایک مستقل مرکز قائم کر کے پوری جماعت کو از سر تو منظم و مستحکم کرنے کی ہر مسکن تدابیر بروئے کار لائی جائیں مختصر لفظوں میں یہ کہ ایک ساکت و جامد جسم تھا جس کی رگوں میں زندگی کا تازہ خون ڈالنے اور قوت و طاقت کی ایک نئی روح پھونکنے کی ضرورت تھی جو بظاہر انتہائی کٹھن ، صبر آزما بلکہ ناممکن دکھائی دیتا تھا۔خود سید نا المصلح الموعود کا بیان ہے کہ یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کو دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے لہ مصائب و آلام کی ان سیاہ اور تاریک گھڑیوں میں جبکہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا اور کسی کو اندازہ تک نہ ہو سکتا تھا کہ مستقبل میں کیا ہوگا اور حالات کیا رخ اختیار کریں گے با خدائے عزوجل کے اس اولوالعزم اور برحق موعود خلیفہ نے (جسے آسمانی نوشتہ میں مسیحی نفس" "جلال الہی کے ظہور کا موجب، تور" اور "جلد جلد بڑھنے والا “ قرار دیا گیا تھا) اپنے رب کے حضور عہد کرتے ہوئے اعلان فرمایا :- 16 سید نا انصلح الموعود کا عہد " قادیان اس وقت بیرونی اسدی دنیا سے بالکل کٹ گیا ہے یکیں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں۔۔۔۔انسان کو اپنا دل مسجد احمدیہ لاہور میں ٹول کو ایک ایسا عزم کر لینا چاہئیے جس پر وہ مرتے دم تک قائم رہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السّلام لاہور میں فوت ہوئے اس وقت میری شادی تو ہو چکی تھی لیکن بچہ کوئی نہیں تھا۔ایک بچہ ہوا تھا جو چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گیا۔اس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کہ یہ عزم کیا تھا اور خدا تعالیٰ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اگر جماعت اس ابتلاء کی وجہ سے فتنہ میں پڑ لے" الفضل ۳ و فار جولائی ارش صفحہ ۶ کالم ۱-۲