تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 732
کر دیتا ہے اور نہیں دور کے اثرات صدیوں تک قائم رہیں گے۔JANC جماعت احمدیہ کے مقدس امام اور بندا کے پیارے مصلح موعود آنے والے خوفناک خطرات کو اپنی بصیر کی آنکھ سے دیکھ رہے تھے اور ان پرفتن ایام میں مجسم گریہ و بکا بنے ہوئے تھے۔حضرت مصلح موعود کی انتہائی خواہش تھی کہ قادیان پاکستان میں شامل ہو اور اس کی تکمیل کے لئے آپ نے ایک فقید المثال اور سر فروشان جد و جہد بھی کی اور بے شمار اقتصادی مشکلات اور محدود ذرائع کے باوجود ہزاروں روپے اس سلسلہ میں قربان کر ڈالے۔بہترین علمی قابلیتیں اور فنی صلاحیتیں صرف کیں اور ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے حق و صداقت کی نذر حافی کا حق ادا کر دیا مگر خدائی تقدیر جس کے اندر بے شمار مصلحتیں اور حکمتیں مضمر تھیں بہر کیف پوری ہو کے رہی یعنی ریڈ کلف ایوارڈ میں کاراگست ۱۹۴۷ مه (مطابق ، ظهور ۱۳۳۷ بیش) کو نہایت طالله طور پر بٹالہ ، گورداسپور اور پٹھانکوٹ کی مسلم اکثریت کی تحصیلیں ہندوستان کا حصہ بنا دی گئیں جس کے نتیجہ میں قادیان کی مقدس بستی بھی بھارت میں شامل کر دی گئی۔اس فیصلہ کا اعلان سُن کر قادیان کے احمدیوں پر کیا گزری ؟ اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جا سکتا۔اس دن ہر آنکھ انسکیاں ، ہر چہ اُترا ہوا ، ہر سینہ زخم رسیده ، ہر جسم نڈھال اور ہر روح لرزہ بر اندام تھی۔اس ہوشر با قیامت کے دوران شام ہوئی تو حضرت امیر المومنين المصلح الموعود مسجد مبارک میں تشریف لائے۔نماز مغرب پڑھائی اور پھر مجلس علم و عرفان میں رونق افروز ہو کر نہایت تفصیل سے بتایا کہ ہم کئی دنوں سے قادیان کے پاکستان میں شامل ہونے کے لئے دُعائیں کر رہے تھے اور بعض کو اس سلسلہ میں مبشر خوا ہیں کبھی آئی تھیں۔اس ضمن میں فرمایا :- جن دوستوں نے اپنی کی ہوئی تعبیروں کے غلات ہوتے دیکھا ہے انہیں گھبرانا نہیں چاہیئے۔اور نہ یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی خوابیں شیطانی تھیں۔جنہوں نے اپنی خوابوں کی تعبیر کی تھی کہ قادریان پاکستان میں شامل ہوگا۔ان کی تعبیریں ابھی غلط نہیں ہوئیں اور اپنے وقت پر سچی ثابت ہوں گی " اس سلسلہ میں مزید فرمایا :- " ہم تم تو شطرنج پر ایک مہرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبی اور نہ ختم ہونے والی تاریخ کا مالک ہے اور اسلام قیامت