تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 731
۷۱۴ ام اس آزادی اور ایک کے موت پر خداتعالی سے دعاکرتے ہیں وہ دونوں کی بیوی نے ان دونوں کوکی مدل دامان پر قائم رہنے کی توفیق بخشے اور ان دنوں مکوں کے لوگوں کے دلوں میں محبت اور پیار کی روح بھرا ہے۔یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرینگر برادران و پودر دوران دو برادر مخلص به طور را در بیان ان میں روح مقابلہ پائی جائے وہاں ان میں تعاون اور ہمدردی کی روح بھی پائی بہائے اور یہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک حال ہوں۔خدا تعالے انہیں ہر شر سے بچائے اور اپنے فضل سے امن اور صلح اور سمجھوتے کے ذریعہ سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم۔کا اس کو اسلام کی روشنی کے پھیلانے کا مرکز بنا سکیں، اللهم امین قادیان میں یوم آزادی کی تقریب ارگست شہد کو قادیان میں پورے وقارسے یوم آزادی کی تقریب منائی گئی۔قادیان کی سرکاری عمارتوں ، ڈاک خانہ ، ایک پینچ آفس، پولیس چوکی وغیرہ پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا اور اُسے سلامی دی گئی۔نیز غرباء میں مٹھائی تقسیم کی گئی اور کھانا کھلایا گیا۔علاوہ ازیں نماز جمعہ کے بعد مسجد اقعی میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے (ایم الی ہے کی صدارت میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا جس میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ اور حضرت چوہدری صاحب نے تقریریں فرمائیں اور ان اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جو آزاد ہوتے کے بعد اہل ملک پر عائد ہوتی ہیں۔اجتماعی دعا پر یہ جلسہ بر خاست ہوا ہے فصل ہشتم قادیان کے ہندوستان میں شامل کئے جانے کا فیصلہ اب ہم تاریخ احمدیت کے ایک ایسے سنگین اور پُرفتن موڑ میں داخل ہو رہے ہیں جس اور حضرت سید نا الصلح الموعود کا پر شوکت اعلان کی ہولناکیوں کا تصور آج بھی لرزہ بر اندام ه وسله " الفضل " ۱۶ ظهور/ اگست ۱۳۳۶ مش صفحه ۲۰۱