تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 696 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 696

کہتا ہوں کہ فساد ہی سے نہ بچو بلکہ جھگڑے والے سیارات بھی اپنے دماغ میں پیدا نہ ہونے دو۔لیکن ہماری تمام کوششوں کے باوجود جو ہم صلح اور امن کے قیام کے لئے کر رہے ہیں اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے جو فساد کی بنیاد رکھنے والا ہو تو یاد رکھو کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ یہ حرام اور نا جائز ہے کہ جرم کوئی کرے اور سزا کسی کو دی جائے ہماری شریعت ہمیں یہ حکم دیتی ہے کہ جہاں تم رہتے ہو گاں تم ایک دوسرے کے لئے امانت ہو۔اس لحاظ سے قادیان کے ہندو سکھے اور خیر احمدی ہمارے لئے بمنزلہ امانت ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کریں اور ہندو سکھے اور احمدی غیر احمدیوں کے لئے بمنزلہ امانت ہیں اور ان کا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کہ میں اسی طرح جہاں ہنڈ یا سکھ زیادہ طاقت ور ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت کریں کیونکہ مسلمان ان کے پاس بطور امانت ہیں۔اسلامی شریعت کے لحاظ سے ہر شریف انسان کا فرض ہے کہ وہ امانت کو دیانت داری سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔پس اگر خدانخواستہ قادیان خطرے میں پڑے تو میں قادیان کے ہندووں اور سکھوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کی اپنے عزیز دل سے بڑھ کہ حفاظت کرینگے اور اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن ذریعہ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کہ میں گئے ایسے مسلمانان ہند کو تدبیر کامل اوریقین کامل حضرت مصلح موعود ایک طرف جماعت احمدیہ سے کام لینے کی پرزو تلقین کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلا ر ہے تھے۔تو دوسری طرف دوسرے مسلمانان ہند کو نذیر میبین کی حیثیت سے بیدار کر رہے تھے چنانچہ اس کو حضور نے محبس معلم و عرفان میں مسلمان ہند کو سمجھے کہ وہ اپنی تی زندگی کے نازک ترین دور میں داخل ہو چکے ہیں۔انہیں شدید خطرے کے ان ایام میں تدبیر کامل اور یقین کامل سے کام لینا چاہیئے چنانچہ حضور نے فرمایا :- ان ایام میں مسلمان ایک نہایت ہی نازک دور میں سے گزر ہے ہیں اور ان کے اندر موجودہ حالات ی نزاکت کا اتنا احساس نہیں پایا جاتا تا کہ پایا جانا چاہتے ان ایام میں ہم دیکھتے ہیں کہ اے مسلمان پنجاب اور بنگال میں اکثریت رکھتے ہیں مگر جب کبھی حقوق کا سوال اٹھتا ہے اور مین قومیں ڈیمن کے حق میں آنی کے خلاف رائے رکھتی ہیں اور انگلستان اور امریکہ وغیرہ سے بھی جو آواز اٹھتی ہے وہ عام الفقبل ٢٩ ہجرت ٢٩ مئی