تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 695
444 کو قائم رکھا جائے اور ہم ارد گرد کے علاقہ میں بھی یہی کوشش کر رہے ہیں اور روڈ نز دیک کے سب لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ کوئی فریق ابتداء نہ کرے لیکن اس امر کو ہندو سکھے سب کو یا درکھنا چاہیئے کہ اگر فساد ہوا تو صرف ہمارے لئے نہیں ہو گا بلکہ سب کے لئے ہو گا اور سب کو ملکر این قائم رکھنے کی کوشش کرنا چاہیئے لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود ہم وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ فساد نہیں ہوگا اور ہماری کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی جو شیلا فریق اشتعالی میں آلکمہ اخلاق اور روحانیت کا ظلم و استبداد کے استھان پر چڑھاوا چڑھاوے ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ قادیان فساد کی لپیٹ میں آجائے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایسا وقت نہ آئے لیکن اگر خدانخواستہ فساد ہو جائے تو میں قادیان کے احمدی سے کہوں گا کہ بہادری اور جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جان دید و اور یہ ثابت کر دو کہ اللہ تعالٰی کی راہ میں جان کی قربانی سب سے آسان قربانی ہے۔ہم کسی سے لڑنے کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ کبھی اس قسم کا بنیال سہانے سے دوں میں آنا چاہیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں لا تتمنو القاء العدو۔تم دشمن سے لڑائی کی خواہش بھی نہ کہ واپنے خیالات امن اور مسلح والے رکھو کیونکہ جس شخص کے دل میں لڑائی کے خیالات مویزن ہوں گے وہ ذراسی بات سے ہی مشتعل ہو جائیں گا اور میں شخص کے دل این صلح و آشتی کے خیالات ہوں گے وہ جلدی مشتمل نہیں ہوگا۔یہ قدرت کا ایک قانون ہے کہ انسان اپنی حالت کو یکدم نہیں بدل سکتا۔فرض کہ وکوئی شخص قہقہہ مار کہ نہیں رہا ہو اور اسے یہ خیر دی جائے کہ تمہارا بیٹا مر گیا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اسی وقت یکدم رونا شروع کر د سے بلکہ اس کی ہنسی تھوڑی دیر میں رُکے گی۔پھر وہ کچھ دیر کے بعد افسردہ ہوگا۔پھر آنسو بہانا شروع کر دے گا اسی طرح بخش تشخیص۔کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہوں وہ یکدم مشتعل نہیں ہو سکتا۔جب دیل اپنا کانٹا بدل لیتی ہے تو وہ بھی آہستہ ہو جاتی ہے اور سست رفتار ہو کہ اُس جگہ سے گزرتی ہے۔اگر وہ تیزی سے کا نشاہد سے تو اس کے الٹ جاتے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالے نے فطرت انسانی کیلئے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ اپنی حالت کو آہستہ آہستہ بدلتی ہے۔اگر فوراً حالت بدل جاتی تو مہسٹیریا یا جنون ہو جانے کا اندیشہ تھا۔پس جو دماغ پہلے سے لڑائی کے خیالات میں منہمک ہوتا ہے وہ فوراً مشتعل ہو جاتا ہے۔لیکن جس دماغ میں صلح اور امن کے خیالات ہوتے ہیں وہ کچھ دیر کے بعد مشتعل ہوتا ہے اور اتنی دیر میں تحرم کا جرم ثابت ہو جاتا ہے پس میں جماعت کو قیمت