تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 643
۶۳۷ ہمارے لندنی نامہ نگار کی اطلاع مظہر ہے کہ امام شمس صاحب نے فرمایا کہ حضرت سیے ناصری کی قبر خانیار محلہ سرینگہ (کشمیر) میں واقع ہے۔یہ دھونے حصہ سید مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ نے کیا ہے اور حضرت مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی کو اپنے اوپر منطبق کیا ہے۔امام شمس صاحب نے اس امر کا اعلان کرتے ہوئے کہ یہ قبر مسیح ناصری کی ہی ہے مزید کہا ہے کہ اس قبر کو کھولا جائے اور تحقیق کی جائے تو متعدد دستاویز است اور الواح اس صداقت کی شہادت میں دستیاب ہوں گی۔اس مضمون کا چھوٹا سا ریکیٹ جس میں قبر مسیح کا فوٹو بھی ہے ہزاروں کی تعداد میں انگلستان بھر میں تقسیم کیا جا رہا ہے اسی طرح کلکتہ کے مشہور اخیار است بازار پتریکا نے م ر ماریے سایہ کے شمارہ میں اپنے نامہ نگار خصوصی کی طرف سے درج ذیل آرٹیکل شائع کیا : ترجمہ) حال ہی میں امام مسجد لنڈن نے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے میں میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سوع مسیح کی قبر ہندوستان میں پائی گئی ہے جس کی وجہ سے برطانیہ کے مذاہیں حلقوں میں غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔خاص طور پر کیتھولک چرچ میں بقول امام صاحب مسجد احمد یہ لندن حضرت مسیح کی پیشگوئی بعثت ثانی حضرت احمد قا دیانی بانی عالمگیر سلسلہ احمدیہ کی ذات میں پوری ہوئی۔نیز آپ نے ٹھوس دلائل سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ لیسوتے مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ اپنے جسم عنصر می کے ساتھ غار سے نکل آئے تھے امام صاحب فرماتے ہیں انجیل کی روایت کے مطابق بیسوع میسج دریائے نائٹریس کے کنارے اپنے حواریوں سے آخری نیاد ملے۔نیز اپنے حواری و پیر کو ہدایت کی کہ " میری بھیڑوں کی پرورش کے نا اس ہدایت کے بعدہ اپنے حواریوں سے مبرا ہوئے اور ایک معلوم علاقہ کی طرف چلے گئے۔یہ شہوڑ ا فقہ ہے کہ لبوع صبح کے وہ سواریوں میں سے ایک حواری مسٹمی طامس ہندوستان آئے اور یہیں فوت ہو آج انکا مغیرہ دور اس میں خود ہے حضرت احمد قادیانی مسیح مو خود کا یہ انکشاف کہ مسیح ابن مریم کی قبر کشمیر میںموجود ہے عیسائیوں کے آسمان کی طرف بیسوع مسیح کے اٹھائے جانے کے عقیدہ کو بالکل باطل کر دیتا ہے اور یقینی طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ قیر عیسی بن مریم کی ہے اور وہی اس میں مدفون ہیں۔الفصل ۲ ۲ روق ۱۳۵۲۵۶ (جولائی ۱۹۳۶)