تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 642
474 شکل میں مرتب کیا ہے اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اسے اس وسیع پیمانہ میں شمولیت و مبلڈن تقسیم کر رہے ہیں (ترجمہ) بشپ آف لنڈن نے کہ سچن ایویڈنس سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ :۔ندر بھی تک ہم یہی خیال کرنے کے عادی رہے ہیں کہ میدان ہمارے ہی ہاتھ میں ہے مگر اب اہم اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ صرف ہم ہی اپنے مذہب کا پروپیگینڈہ نہیں کر رہے بلکہ اور لوگ بھی ہمارے مقابل پر ہیں جو اس کام کو سرگرمی سے کر رہے ہیں۔پھر مضمون نگارا اپنے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے کہ بشپ آف لنڈن کے یہ خیالات اس واقعہ سے متاثر ہیں کہ اُس نے ایک ٹیوب سٹیشن میں چند ہندوستانیوں کو سیح کے مقبرہ کے فوٹو پر مشتمل ایک ٹریکٹ کو تقسیم کرتے ہوئے دیکھا۔لنڈن کے ہفتہ وار میگزین " F۔E۔OF FAITH انا نے مسلمانوں کا حملہ انگلستان پر کے عنوان سے لکھا:۔”ہم عیسائیوں کے لئے بڑے شرم کی بات ہے کہ ہمارا ملک اب مسلمانوں کے اس قسم کے حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔برطانوی رواداری کی وجہ سے ممکن ہے یہ تحریک پیل بجائے اگر ایسا ہوا تو اس کے لئے ہمیں اچھی طرح مسلح ہونے کی ضرورت ہے ہے سپر پوسٹوں کے کثیر الاشاعت اخبار سائینگ نیوز نے اپنی ۲۰ اپریل ۹۲۶ائے کی اشاعت میں بھی اس پفصل تبصرہ کیا اور اس پر حسب ذیل عنوانات دئے۔ایسٹر کے موقعہ پر مسلمانوں کی ایک جماعت کا حیرت انگیز دعوئے۔حضرت مسیح مصلون نہیں ہوئے بلکہ بقید حیات ہندوستان گئے اور ایک دوسرے نام کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے تے ہندوستان کے بعض مشہور اخبارات نے بھی اس پر تبصرہ کیا چنا نچید راس مشہور اخبار ہند : دیوار پارچه ۱۹۴۶ء کی اشاعت میں لکھا:۔اس عجیب و غریب ادعا کا اعلان کہ حضرت یسوع ناصری سرزمین ہند میں دفن ہوئے تھے جناب مولوی جلال الدین صاحب امام مسجد مینی لنڈن کی طرف سے کیا گیا ہے سید ه بوانا تفضل ۳۰ دور و فابولائی ۱۹۲۶ ۱۳۲۵ هش ه مفصل تبصرہ کا ترجمہ الفضل دیکم ظہور ۱۳۲۵ و حشمت میں درج ہے