تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 615 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 615

014۔۔۔۔پھر وہ زمانہ بھی آجائیگا جب اس پیشگوئی کا دوسرا بطن پورا ہو گا اور مغرب سے اسلام کے مبلغ نکلنے شروع ہوں گے اور عرب میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو بجائے اسلام کو مٹانے کے اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔پھر وہ زمانہ بھی آئے گا جب اس دنیا پر صرف اشرار ہی اشرار رہ جائیں گے اور جب سورج بھی مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کرے گا اور دنیا تباہ ہو بھائے گی۔یہ سارے بطن ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ایک بطن یہ بھی ہے جو شمس صاحب کے آنے سے پورا ہوا اور جسے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہمارا اسوقت کاردانی حملہ جا به جا نہ حملہ ہو گا ہو نہ یادہ سے زیادہ قوی ہوتا چلا بھا ئیگا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں پر بھی اور جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو یکے بعد دیگر ے قوم کے نوجوانوں کو قربانی کی بھینٹ پڑھایا جاتا ہے۔جب لڑائی نہیں ہوتی اسی وقت فوجوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو جس طرح ایک تندرواں اپنے تنور میں پیتے تعود لکھتا چلا جاتا ہے اسی طرح نوجوانوں کو قربانی کی آگ میں بھونکنا پڑتا ہے اور یہ پرواہ نہیں کی بھاتی کہ ان میں سے کون بچتا ہے اور کون مرتا ہے۔ایسے موقعہ پر سر ہے تقدم رہے اعلیٰ اور سر ہے ضروری یہی ہوتا ہے کہ جیسے پر دانے شمع پر قربان ہوتے چلے جاتے ہیں اسی طرح نو جوان اپنی زندگیاں اسلام کے احیاء کے لئے قربان کر دیں۔کیونکہ ان کی موت کے ساتھ اُن کی قوم اور ان کے دین کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔اور یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ اگر قوم اور دین کی زندگی کے لئے دس لاکھ یا دس کروڑ یا دس ارب افراد بھی مر جاتے ہیں تو ان کی پرواہ نہیں کی بھا سکتی۔اگر ان کے مرنے سے ایک مذہب اور دین زندہ ہو جاتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے۔شمس صاحب پہلے مبلغ ہیں جو جنگ کے بعد مغرب سے واپس آئے۔یوں تو حکیم فضل الرحمن صاحب بھی مغرب میں ہیں۔مولوی محمد شریف صاحب بھی مغرب میں ہیں۔صوفی مطیع الرحمن صاحب بھی مغرب میں ہیں اور ہو سکتا ھا کہ کوئی اور پہلے آجاتا۔ہم نے حکیم فضل الرحمن صاحب کو آج سے نو ماہ پہلے واپس آنے کا حکم دیدیا تھا مگر کو نو آنے حکم اُن میں سے کسی کو واپس آنے کی توفیق نہیں ملی۔توفیق ملی تو شمسی صاحب کو ملی۔تا اس ذریعہ سے رسول کریم صلی اشد علی اسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب آخری حملے کا وقت آئے گا اس وقت مستی نامی ایک شخص مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئیگا اور اس کے آنے کے ساتھ اسلام کے جارحانہ اقدام اور ان کی حملہ عظیمہ کی ابتدا و