تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 614
۵۹۸ دی جس میں حضرت سید نا لمصلح الموعود نے ایک پر معارف تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ : اللہ تعالیٰ اور اگر کیے انبیاء کے کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں اور ہر بطن اپنے اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے متعلق فرمایا ہے کہ اسکی سات بطن ہیں اور سات بطنوں میں سے آگے ہر سطین کی الگ الگ تفاسیر ہیں۔اسی طرح ایک ایک آیت سینکڑوں اور ہزاروں معانی پر مشتمل ہے۔رسول کریم صلی الل صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں مغرب سے سورج کا طلوع ہوگا۔اور جب یہ واقع ہو گا تو اس کے بعد ایمان نفع بخش نہیں رہے گا۔۱۹۲۳ء میں احرار نے ہمارے خلاف ایجی ٹیشن شروع کی اور انہوں نے دعوی کیا کہ ہم نے احمدیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔اور سہ ء سے ہی اللہ تعالٰی نے جماعت کو ایک نئی زندگی بخشی اور اُسے ایک ایسی طاقت عطا فرمائی جو اسی پہلے اُسے حاصل نہ تھی۔اس نئی زندگی کے نتیجہ میں ہماری جماعت میں قربانی کا نیا مادہ پیدا ہوا۔ہماری جماعت میں اپنے نفوس اور اپنے اموال کو خدا تعالی کی راہ میں وقف کرنیکا نیا جوش پیدا ہوا۔اور ہماری جماعت میں دین اسلام کی خدمت اور اللہ تعالی کے کلمہ کے اعلاء کے لئے باہر جانے کا نیا ولولہ اور نیا بپوش موجزن ہوا۔چنانچہ پہلے بیسیوں اور پھر سینکڑوں نوجوانوں نے اس غرض کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا اور میں نے خاص طور پران کی دینی تعلیم کا قادیا میں انتظام کیا تا کہ وہ باہر جا کر کامیاب طور پر تسلی کر سکیں۔اس عرصہ میں جنگ کی وجہ سے ہمارے پہلے مبلغ یا ہرڑ کے رہے اور نئے مبلغوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھاری رکھا یہانتک کہ جنگ کے خاتمہ پر ہم نے ساری دنیا میں اپنے مبلغ اس طرح پھیلا دئے کہ احمدیت کی تاریخ اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی باقی مسلمانوں میں تو اس کی کوئی مثال تھی ہی نہیں۔ہماری جماع میں بھی جو قربانی کی عادی ہے اس قسم کی کوئی مثالی پہلے نظر نہیں آتی۔جب مبلغ تیار کر کے بیرونی ممالک میں بھیجے گئے تو خدا تعالی کی مشیت اور رسول کریم صلے اشد علیہ وسلم کی پیشگوئی کے ماتحت ہمارا جو لشکر گیا ہوا تھا اس میں سے سر سے پہلے شمسی صاحب مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئے۔پس اس پیشگوئی کا ایک بنی یہ بھی تھا کہ آخری زمانہ میں الہ تعالی اسلام کی فتح اور اسلام کی کامیابی اور اسلام کے غلبہ اور اسلام کے استعلاء کے لئے ایسے سامان پیدا کر لیا جن کی مثال پہلے مسلمانوں میں نہیں ملے گی۔اور اس وقت سورج یعنی شمس مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئیگا۔ہمارے مولوی جلالی الدین صاحب کا نام شمس آئی کے والدین نے نہیں رکھا۔ماں باپ نے صرف بجلال الدین نام رکھا تھا مگر انہوں نے با وجود اسکے کہ وہ شاعر بھی نہیں تھے جو نہی اپنے نام کے ساتھ شمشن لگا لیا۔تا کہ اس ذریعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب شمس مغرب سے مشرق کی طرف آئے گا یہ