تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 616
۲۰۰ ہوگی اور نوجوان ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کے لئے بڑھتے چلے جائیں گے۔پرد نہ کیا ہے حقیقت اور بے عقل جانور ہے مگر پر دانہ بھی شمع پر جان دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اگر پر دانہ شمع کے لئے اپنی جان قربان کر سکتا ہے تو کیا ایک عقلمند اور باغیرت انسان خدا اور اُسکی رسولی کے لئے اپنی جان دینے کو تیار نہ ہو گا ؟ لے نواکھالی اور بہار میں خونریز فسادات فادات کلکتہ کا رد عمل پہلے نواکھالی اور پھر بہار میں ایسی سفاکی ، درندگی اور بہیمیت کی صورت میں ہوا کہ انسانیت روپوش ہوگئی۔اور جماعت احمدیہ کی خدمت خلق۔نہ کھال من اگر ہے نہ ہندو نہایت بے دردی کو موت کے گھاٹ نو اکھائی میں بے گناہ اتار دیئے گئے تو بہار کے لیے ہیں اور معصوم مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔فسادیوں نے نہایت وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور اُن کے دیہات کے دیہات نذر آتش کر دیئے۔ہزار دن سلمان شہید ہوئے ہزاروں زخمی ہوئے اور ہزاروں بے خانماں ہو کہ بنگال، سندھ یا پنجاب میں آبسے اللہ ہزاروں دیہاتوں کے بھاگ بھاگ کر شہروں میں پہنچے اور ڈاکٹر سید محمود کے بیان کے مطابق ایک لاکھ دس ہزار مسلمان پناہ گاہ بنوں کے کیمپ میں تقسیم ہو گئے۔چنانچہ بھاگل پور سے موادی اختر علی صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور پر وفیسر عبد القادر صاحب نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ہم ماہ نبوت انذیر کو مندرجہ ذیل تا ر بھجوایا او را نبوت کو موصون ہوا :- مسلمانان بہار پر مظالم کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔مظالم توڑنے میں عورت ، مرد اور بچے بوڑھے کا کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا اصل حالات کو مخفی رکھا جا رہا ہے۔سپین کی خونی داستان تمام صوبہ میں دہرائی جارہی ہے۔ذرائع ریسل در مسائل اور خط و کتابت بند ہیں مسلمانوں کے خلاف مظالم کا ایک تند طوفان اٹھ رہا ہے۔مہربانی فرما کر دعا فرمائیں اور مرکزی حکومت کے ذریعہ اور پبلک میں اصل حقیقت کے اظہار کے ذریعہ اعداد فرمائیں۔ہماری جانوں کی حفاظت کے لئے یہ ایک ڈوبتے ہوئے جہانہ کی صدا سمجھیں " کے حضرت مصلح موعود نے نواکھالی اور بہار کے ان خوینیز فسادات پر اولین قدم یہ اٹھا یا کہ نوا ھوالی کے فلاکت زدوں کی امداد کے لئے آل انڈیا نیشنل کانگرس کو پانچ ہزار اور مظلوم مسلمانان بہار کے ریلیف فنڈ میں قائد اعظم محدعلی جناح کی خدمت میں پندرہ ہزار روپیہ کی پہلی قسط بھجوائی۔یہ قسط نظارت امور عامہ کی طرف سے ارسال کی گئی س کے ساتھ حسب ذیل خط بھی تھا :- الفضل ۲۹ صلح جنوری ۱۳۳۰ به پیش ۳۲۰ ے یہ بیان انہوں نے پٹنہ ٹائمز " میں شائع کرایا تھا : 31941 که الفضل در نبوت اند بر ۳۳۵ به ش ۲۰ : ه الفضل در نبوت / نومبر ۳۲۵ پش: