تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 513 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 513

حقیقت یہ ہے کہ یہ بین الاقوامی پیچیدہ مسائل دور حاضرہ کے نہایت اہم مسائل ہیں۔جن کی طرف دنیا بھر کی تو جہ ہے۔دنیا کے نہ ختم ہونے والے مصائب ، بدامنی اور گمراہی کا باعث یہ ہے کہ دنیا اپنی شکلات کام محض عقلی تدبیروں سے ڈھونڈنا چاہتی ہے اور مادی دنیا طمع اور حرص میں اندھی ہو کہ دیگر ممالک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔جماعت احمدیہ جو ایک پر امن جماعت ہے اس بدامنی اور ظلم و فساد کی وجہ دو باتوں کو قراردیتی ہے۔اول سیاسی طور پہ بلا تمیز رنگ ، ملک ، زبان ، مذہب ، بنی نوع انسان کے اتحاد کے لئے کوشش کا فقدان - دوم اس چیز کا سوشل رنگ میں لحاظ نہ رکھنا۔اسلام اپنے تمام سیاسی، اقتصادی اور تمدنی اور دیگر ہر قسم کے نظاموں کی بنیاد اس امر پر رکھتا ہے جو ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بادشاہت اور مالکیت صرف خدا تعالے کو ہی حاصل ہے۔پس اگر کسی شخص کے سپرد حکومت کر نیکی ذمہ داری کی جائے تو ایک اقتدار ہے جو قوم نے اس کے سپرد کیا جو اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہے۔اسلام کے یہ اصول ہسپانیہ کے موجودہ اور عام قدیمی روا بھی اصولوں سے بہت ملتے ہیں یعنی اقتدار کا حق وانصاف کے ساتھ استعمال خدا سے گہرا رابطہ اور رعایا کے حقوق کی نگہداشت۔لیکن حضرت مرزا صاحب نے چار اصولی قائم کئے ہیں۔(1) یہ کہ حکومت لوگوں کی عزت ، جان نہ مال کی حفاظت قوم کی ترقی کی ذمہ دار ہے۔بلکہ حکومت کا مقصد ہی ہے۔(۲) حکومت ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے۔(۳) انتخابی حکومت افراد اور قوم کے اندر عدل کرنے کے لئے خدا وند تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔(سم) حاکموں کو ہمیشہ غیر جانبدارانہ پالیسی اختیارہ کر تے ہوئے رعایا کے افراد کے اندر حق و انصاف سے کام لینا چاہیئے اور اقوام اور افراد میں تفریق نہ پیدا کریں۔ران اصولوں کے ماتحت آپ مسلمانوں کو پر زور تاکید کرتے ہیں کہ خواہ انہوں نے مختلف قسم کے نظام اختیار کر لئے ہوں۔اہل اسلام کے درمیان عدم مساوات کو دور کریں اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ ایک فریق یا قوم کو اونچا کیا جائے۔اور دوسرے کو نیچا۔ایک کو دیا یا جائے اور دوسرے کو بڑھایا جائے۔دہ مسادات کے لئے یہ طریق اختیار نہیں