تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 514 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 514

کرتا کہ طاقت سے ایک طبقہ کی دولت چھینے اور اس کو طاقت کے بل پر ادفی تعالت گزار نے پر مجبور کرتے۔اسلام افراد کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے اور حریت شخصی کی پوری پوری حفاظت کرتا ہے تا تسابق کی روح قائم رہے لیکن ساتھ ہی دنیا بھر کی دولت سمیٹنے کی نا جائز نفسانی خواہش کو بھی روکتا ہے۔تابنی نوع انسان کہ تباہی سے بچایا جائے۔اسلام اس اصول کہ اس طرح قائم کرتا ہے کہ اسراف سے منع کرتا ہے۔عیش و عشرت کی زندگی کی ممانعت ہے۔تجارت جس میں نفع و نقصان دونوں متوقع ہوں۔میں سود کی ممانعت زکواۃ۔صدقہ و خیرات کے دوسرے بہت سے فرائض خمس۔آخر میں دیر نہ کی تقسیم کے دیوالیہ ہو چنانچہ اس طرح اسلام کا اقتصادی نظام خود بخود دولت جمع نہیں ہونے دیتا۔اگر کوئی فرد جمع کر بھی لے تو آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے۔حتیٰ کہ مالک کی وفات کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔بیان کردہ اصولوں کو بین الا قوامی زندگی میں قابل عمل بنانے کے لئے آپ نے بتایا ہے کہ دنیا کی کسی بڑی طاقت کو یہ حتی نہیں کہ اپنی قوم کی طاقت دوسروں پر ظلم کرتے ہوئے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور نہ کوئی نظام ایسا ہونا چاہیے۔خواہ تمدنی ہو یا سیاسی۔اور نہ ہی ایسا فلسفہ ہونا چاہیئے جو بنی نوع انسان کو نمام بنائے اور غیر ملکیوں پر اقتدار کی ناجائنہ خواہش کرتا ہو۔کمیونزم کا نظام ہو یا سرمایہ داری کا نظام ہو۔(سیدنا حضرت مرندا البشیر الدین صاحب کے پیش کردہ نظام سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ ان ہر دو نظاموں میں سلطنت کی باگ ڈور ہا تھوں میں لینے والے افراط کی طرف نکل گئے ہیں۔کتاب کے آخری حصہ میں جماعت احمدیہ کے امام نے کمیونزم کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور اس تحریک کے نظام اقتصادیات کا اچھی طرح سے تجزیہ کیا ہے اور پھر اس کا قرآن مجید کے اصولوں کے ساتھ مقابلہ کر کے دکھایا ہے۔آپ نے کمیونزم کی مساوات کی تھیوری اور سرمایہ دارسٹیٹ کی عملی عدم مساوات کےواقعات کو بھی اچھی طرح سے بیان فرمایا ہے۔آخر میں آپ نے واضح اعلان فرمایا ہے کہ ہم احمدی کسی کے بھی دشمن نہیں ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور کہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو بھی نظام جاری ہو وہ اقتصادی ہو یا سیاسی ،