تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 505
اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھے۔اس قسم کے لوگوں کی نفی کر کے نظام اسلام کبھی باقی نہیں رہ سکتا۔آخر ایک تفصیلی آئین بغیر اس کی ماہروں اور بغیر اس کے مبلغوں کے کس طرح چل سکتا ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جو دنیا کے تمام مذاہب میں سے سب سے زیادہ مکمل ہے اور وہ ایک وسیع اور کامل آئین اپنے اندر رکھتا ہے۔وہ عبادات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے وہ اقتصادیات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے وہ سیاسیات کیے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے وہ آتا اور ملازمین کے حقوق کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے۔وہ معلم درس تعلم کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے۔وہ میاں اور بیوی کے حقوق کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے وہ تجارت اور لین دین کے معاملات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے۔وہ ورثہ کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے۔وہ بین الاقوامی تھگردی کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے۔وہ قضاء کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے غرض ہزاروں قسم کی تعلیمیں اور ہزاروں قسم کے قانون ہیں جو اسلام میں پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک ایک امر اور کامل معموں کو چاہتا ہے جو رات دن اسی کام میں لگے رہیں جب تک اس تفصیلی آئین کو سکھانے والے لوگ اسلام میں موجود نہیں ہوں گے۔لوگ سیکھیں گے کیا اور کس سے۔اور اسلام پر مسلمان معمل کس طرح کریں گے۔اور اسلام دنیا میں پھیلے گا مکمل کس طرح ؟ تغیر کا علم خود ایک مکمل علم ہے۔جب تک مفتر نہ ہو یہ علم زندہ نہیں رہ سکتا اوردفتر بننے کے لئے سالہا سال تک تفاسیر کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔لغت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔صرف و نحر کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔احادیث کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔پھر پرانی تفاسیر کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔دوسرے مذاہب کی کتب اور ان کی تاریخ خصوصها تا ریخ عرب اور تاریخ بنی اسرائیل اور بائیبل کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔بغیر ان باتوں کے بھانے کے کوئی شخص قرآن کریم کے مطالب کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا۔سوائے اس کی کہ الله تعالئے براہ راست کسی کو سمجھائے۔مگر ایسے آدمی دنیا میں کتنے ہوتے ہیں۔صدیوں میں کوئی ایک آدھ ایسا پیدا ہوتا ہے باقی تو کسب سے ہو تقوی کے ساتھ ہو یہ مرتبہ حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن کمیونسٹ تو اس کام کو کام ہی نہیں سمجھتے۔وہ کسی کو قرآن کریم اور تفسیر در عربی بارہ سال تک